نعتیہ سانیٹ

نعتیہ
سانیٹ
وہی
محمود و حامد ہیں، وہ احمد ہیں محمد ہیں
!
امام
الانبیا ہیں اور دوعالم کے ہیں وہ سرور
!
وہ
طٰہٰ ہیں وہ یٰسیں ہیں، انھیں رب نے ہے دی کوثر
وہ
پہنچے عرشِ اعظم پر، مکینِ سبز گنبد ہیں
!
٭
ہر
اِک تخلیقِ خلّاقِ دوعالم کا وہ مقصد ہیں
!
وہ
نورِ اوّلیں ہیں اور شہِ لولاک بھی ہیں وہ
!
حبیبِ
خالقِ کل ہیں، رسولِ پاک بھی ہیں وہ
وہ
ہیں صدیق کے ہمراہ، وہ حسنین کے جد ہیں
!
٭
یقینا
گوشۂ جنت یہ گلزارِ مدینہ ہے
!
یہاں
آرام کرتے ہیں جنھیں قرآں کہے شاہد
!
وہ
ہم سے کہہ رہے ہیں تم بنو اب ملتِ واحد
تمھارے
دائرے کی اصل پرکارِ مدینہ ہے
!
٭
گلستانِ
سخن میں پھول کا پیغام تم سن لو
نبی
کی سیرتِ اطہر سے گل ہائے عمل چن لو
!
تنویر
پھول (امریکا
)