نعت زندگی ہے

نعت
زندگی ہے

نعت
ہمار ی روح کی غذا ہے، نعت ہی سے زندگی عبارت ہے، نعت شامِ غم کے ماروں کو صبحِ
مسرت عطا کرتی ہے، نعت صرف فن ہی نہیں عبادت بھی ہے، نعت ہی سے دنیا میں عزت بھی
اور آخرت میں اعجاز بھی۔ نہ معلوم کس کی نعت بارگاہِ خیرالانام ﷺ میں مقبول ہے،
اسی لیے ہر شاعر نے نعت نبی ﷺ کو اپنایا ہے، سارا قرآنِ مقدس جہانِ نعت ہے۔ نعت
کی روایت درود و سلام سے عبارت ہے۔ آج کل نعت میں بے احتیاطی اور غلو عام ہے، ہر
چھوٹا بڑا شاعر نعت کہہ رہا ہے۔ اکثر نعتیں شرعی و شعری گرفت میں آتی ہیں۔
مَیں
لکھوں روز اک نعت شاہِ ہدیٰ ہے تمنا یہ برسوں سے خیرالوریٰ
نعت
کی ہو صدی، یہ صدی، یہ صدی یانبی، یانبی، یانبی، یانبی
(فرحت حسین خوشدلؔ)
اکیسویں
صدی کے آغاز ہی سے یہ بات روشن ہوگئی ہے کہ ادبی طور پر یہ صدی نعت کی صدی ہوگی۔
بہت دنوں کی بات نہیں جب سوالیہ انداز میں کہاجاتا تھا کہ کیا نعت ایک صنفِ سخن
ہے؟ اور آج یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہی جاتی ہے کہ نعت ہر صنفِ سخن میں موجود
ہے اور خود ایک مستقل صنفِ سخن ہے۔
نعت
پر ہمارے پڑوسی ملک میں بہت کام ہو رہا ہے۔ میرا اپنا خیال ہے کہ وہاں کی نعتیہ
شاعری بھارت سے موضوعات اور طرزِ اظہار دونوں حیثیتوں میں بہت آگے ہے۔ نعت رنگ،
سفیرِ نعت اور نعت جیسے رسائل نعت کی فضا ہموار کرنے میں شب و روز مصروفِ عمل ہیں۔
بہت دنوں سے ہندوستان میں بھی ایسے رسالے کی کمی محسوس ہورہی تھی۔ مَیں نے اکثر
احباب کی توجہ اس جانب دلائی، مگر بے سود۔
بالآخر
مجبوراََ اس خاموشی کو توڑتے ہوئے خود مجھے ہی قدم بڑھانا پڑا۔ اپنی کم مائیگی اور
بے بضاعتی کا خوب احساس ہے۔ نام و نمود کی پرواہ نہ ہی مادّی وسائل کے حصول کی
تمنا۔ بس اتنی سی آرزو ہے کہ خدامِ نعت کی فہرست میں کہیں اپنا بھی نام ہو اور
یوسف کے خریداروں میں میرا بھی شمار ہوجائے۔
یہ
رسالہ مختصر سی مدت میں ترتیب دیا گیاہے۔ ان شاء اللہ آئندہ شمارے سے ’’جہانِ
نعت‘‘ کا رنگ آپ دیکھتے رہ جائیں گے۔ یہ شمارہ آپ کو کیسا لگا؟ موبائیل،ای میل
اور خط کے ذریعے مطلع فرمائیں تو نوازش ہوگی۔
غلام
ربانی فداؔ