نعت کے حوالے سے ایک سفر

نعت کے حوالے سے ایک سفر

کرم وفیض کاجوسلسلہ ہے اب بھی جاری ہے

مولاناغلام ربانی فداؔ مدیراعلیٰ جہان نعت ہیرور

علاقہ حیدرآبادکرناٹک ہمیشہ ہی سے اردوزبان وادب کے لئے زرخیزرہاہے۔صدیوں سے اس زمین کی اپنی روایتی
تہذیب وتمدن اور تاریخی وروحانی سے ایک منفرد مقام حاصل رہاہے۔اس سرزمین نے بہت سے داراؤں کی دارائی دیکھی ہے ۔علاقہ حیدرآبادکرناٹک ایک گرم علاقہ ہے۔موسم کے اعتبار سے بھی اور ادب ومذہب کے حوالے سے بھی۔ اردوکے عظیم مجاہدین کا ایک لشکرجراربھی ہے اورصوفیان کرام ایک مقدس کاقافلہ بھی۔یہاں ادب ہی مذہب ہے اورمذہب ہی ادب ہے۔کیوں نہ ہوجب کہ اس کے سالاراعظم مشہورصوفی اوراوراردوکے اولین نعت گوشاعر حضرت خواجہ بندہ نواز علیہ الرحمہ ہیں۔پچھلے کچھ دن پہلے علاقہ حیدرآباد کرناٹک جانے کااتفاق ہوا۔اس پہلے بھی اس علاقہ کابہتوں مرتبہ سفرکرچکاہوں ۔کبھی الہڑ نوجوان کی طرح۔جس کامقصد سیروتفریح کے علاوہ کچھ نہ تھا۔مگراس بارکاسفر ایک بامقصد اورمنصوبہ بند سفرتھا۔جب سے خدمت نعت کی سعاد ت میسرآئی ہے تمام اسفار بامقصد ہوگئے ہیں۔سہ ماہی چراغ نور کے مدیراعلیٰ وفعال ومتحرک شخصیت مبین احمدزخم ؔ یادگیر،جناب محمدعرفان لکچراررائچور کے اصرارپرمیں گدگ سے بذریعہ ٹرین شولاپورہوتاہوا گلبرگہ پہنچا۔شہرگلبرگہ کی بہمنی عہدہی سے روحانی حیثیت مسلم رہی ہے اوراردو کی اولین بستیوں میں شامل رہی ہے۔گلبرگہ کی تقدس آفرین فضاؤں میں ہمیشہ ہی سے فیوض وبرکات کی عطرانگیزیاں شامل رہی ہیں۔بہمنی دورمیں اس شہرمیں ملک وبیرون ملک کے اجلا صوفیااوراولیاء کی آمد نے اہلیان گلبرگہ کو برگ گل کی مانند شائستگی وشگفتگی عطاکی۔اورگلبرگہ روحانی ،ادبی ومذہبی مرکزبن گیاہے۔آج جواس سرزمین میں پوشیدہ تصوف کے ستارے جو آسمان کے چاندستاروں کے افضل اورروشن ہیں ان کے چندنام یہ ہیں۔حضرت قدر،حضرت خاکی،حضرت پیربنگالی،حضرت تیغ برہنہ،حضرت رکن الدین تولہ،حضرت خواجہ بندہ نوازگیسودراز اورشیخ سراج الدین باباجنیدی علیہم الرحمہ۔اردوکے اولین نعت گوشاعر کے آستانے پر عقیدت کی خوشہ چینی کے بعد میں سفرکی تھکان (ہندوستان کے ریلوے محکمہ دنیا میں انفرادی شناخت رکھتاہے وقت کا پابند ہونہ ہو کراسنگ کاپابندضرورہے۔اور اس میں اس کی دھیمی رفتار واقعی قابل دید ہوتی ہے)دورکرنے کے لئے قیام گاہ پہنچ گیا۔پھربعدنمازعصر ملاقاتوں کاسلسلہ جاری ہوگیا۔مبین احمدزخم ؔ ایک حادثہ کا شکار(سراپازخمی) ہونے کے باوجوداس ناچیزملاقات کے لئے تین گھنٹوں کاسفرکرکے یادگیرسے گلبرگہ آئے۔ویسے زخم صاحب اب تک میری بات صرف اورصرف فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے ہی ہوتی تھی۔کافی حدتک ہمارے درمیان تکلف کاحجاب ختم ہوچکا تھا۔ مبین احمدزخم صاحب کی ادارت میں شائع ہونیوالا ہفت روزہ ’’ٹاپ نیوزویکلی‘‘ کامسودہ بھی نظرنوازہوا۔نوجون شعراریاض راشد ،شکیل صدف رات گئے دیر تک باتوں کاسلسلہ جاری رہا علاقہ حیدرآباد کرناٹک کے ادبی شخصیتوں اورادب کے حوالے سے خصوصاََ ادب نعت کے حوالے سے گفتگو ہوتی رہی مجھے یہ جان کربڑا دکھ ہواکہ گلبرگہ میں ماہرین فن ہونے کے باوجود مبتدی شعرا کی صحیح رہنمائی نہیں کرتے۔ہماری یہ بے حسی اورانانیت اردوادب کاکتنانقصان کرے گی؟۔ اورمشہور دھنک رنگ شخصیت ڈاکٹروحیدانجم سے ملاقات ہوئی نعت کے حوالے سے کچھ باتوں پرمتفق ہوا اور کچھ ماننے میں ترددہوا۔روزنامہ سالاربینگلورادبی ایڈیشن کے مشہور ادبی قصاب سرداراسلم سنگتراش واڑی کے حوالے سے معلومات حاصل کی توپتہ چلاکہ شہرگلبرگہ میں سرداراسلم نامی ناقدتودورحجام بھی نہیں ہے۔ خیرجمعہ کی صبح یادگیرہوتے ہوئے رائچورروانہ ہوگئے میرے ساتھ مبین احمدزخم بھی تھے۔یادگیرمیں مبین صاحب کی آفس نیزمدرسہ وحیدہ نسوان اہل سنت،وحیدہ کیمپوٹرسینٹر،وحیدہ ٹیلرنگ سنٹربھی دیکھابڑی خوشی ہوئی ایک نوجوان زخم خوردہ کی قوم وملت کی فلاح وبہبودی کے لئے جانفشانیاں وجانثاریاں قابل رشک ہیں۔یادگیرمیں ڈاکٹر محمدرفیق سوداگر،آفتاب صمدانی موسیٰ جیسے صاحبان فکروقلم سے ملاقات کی تشنگی باقی رہے۔وقت کی تنگ دامانی دامنگیررہا۔ رائچورمیں جن سے میری ملاقاتیں ہوئیں ان میں سے چندنمایاں نام یہ ہیں۔قطب رائچور علیہ الرحمہ کے سجادہ پیرطریقت مولانااشرف رضااشرفی مدظلہ ایم اے ،مشہورشاعروصحافی وحیدواجد،نوجوان شاعرعقیل یاور،مزاحیہ شاعر محمدعرفان ایم اے،نصیرالدین غازی،اسراراحمد سے ملاقاتیں ہوئیں۔ویکلی ٹاپ نیوز کے دفتر میں کافی دیر گفتگوہوتی رہی۔جس میں خصوصیت کے ساتھ ہفت روزہ ٹاپ نیوز کے مشمولات ونشرواشاعت پر سیرحاصل بحث ہوئی۔میں نے محسوس کیاکہ علاقہ حیدرآباد کرناٹک کے لوگ انسانیت اورمہمان نوازی باقی ہی نہیں بلکہ زندہ وجاویدہے۔اسی سفرکے موقعے پر ڈاکٹر وحیدانجم نے اپنی دوکتابیں’’جانے پہچانے‘‘’’ابررحمت ‘‘(نعت ومنقبت)تحفۃََ پیش کیا۔مشمولہ منقبت کا مطلع ہےلقب قطب دکن ہے اورصفت بندہ نوازی ہے
کرم وفیض کا جوسلسلہ ہے اب بھی جاری ہے