نور کیا نورِ خدا ہے آپ کا مرتبہ سب سے جدا ہے آپ کا

ا
نور کیا نورِ خدا ہے آپ کا
مرتبہ سب سے جدا ہے آپ کا
نام لیتے ہی ملا دل کو سکوں
نام کیا صلّ علیٰ ہے آپ کا
جس کو مل جائے مسیحائی کرے
عشق کچھ ایسی دوا ہے آپ کا
دشمنانِ دیں کے منشا کے خلاف
بول بالا ہی رہا ہے آپ کا
ہے سعادت نعت گوئی کی نصیب
یہ کرم بھی بے بہا ہے آپ کا
ذرّہ ذرّہ ماہِ کامل بن گیا
کیا عجب بحرِ سخا ہے آپ کا
وہ تو ٹھکراتا ہے تاج و تخت کو
جو بھی دل سے ہوگیا ہے آپ کا
وہ کہیں سے اور کیا مانگے بھلا
جو کرم ہی مانگتا ہے آ پ کا
اپنی رحمت سے نوازیں اب اِسے
میرے آقا یہ ضیاءؔ ہے آپ کا
سیّد ضیاء محی الدین گیلانی (ہڑپہ)