نہیں شعر و سخن میں گو مجھے دعوائے مشاقی

نہیں شعر و سخن میں گو مجھے دعوائے مشاقی
مگر لکھتا ہوں نعتیں میں سمجھ کر فرض اخلاقی

نہیں میں ہی اکیلا جانتا ہوں تجھ کو اے ساقی
زمانہ تجھ سے واقف ہے تری شہرت ہے آفاقی

کھلا ہے میکدہ تیرا، بہ ہر دم دورِ ساغر ہے
جو اہلِ ذوق ہیں رہتے ہیں وہ مصروفِ ذواقی

ہزاروں خوبیاں یکجا ہیں تیری ذاتِ واحد میں
نمایاں تیرے پیکر میں خدا کی شانِ خلاقی

جو زہرِ کفر سے مسموم تھے آخر ہوئے اچھے
ترے اک ساغرِ وحدت کا ہے یہ کارِ تریاقی

امینِ جان و دولت بن گئے تیری بدولت وہ
جو رہزن کارواں کے تھے، تھا پیشہ جن کا قزاقی

خوشا قسمت کہ تیرا نام روشن ہے قیامت تک
ترا قرآن باقی ہے رسالت ہے تری باقی

وہی ہے ہاں وہی ہے ہو بہو جیسا ہوا نازل
نہیں قرآن میں واللہ کوئی حرفِ الحاقی

تری امت کی حالت ہو گئی نا گفتہ بہ شاہا
عداوت ہے، تشتُّت ہے، ہے باہم بغض و ناچاقی

مرے آقا دعا کیجے ہمارے حق میں یوں رب سے
کہ پیدا ہم میں ہو جائے خدا خوفی خوش اخلاقی

تمنا آخری یہ ہے کہ تیرے حوضِ کوثر سے
نظرؔ کو بھی عطا ہو جائے اک ساغر مرے ساقی

٭٭٭
محمد عبد الحمید صدیقی نظرؔ لکھنوی​