نہ کہیں سے دور ہیں منزلیں نہ کوئی قریب کی بات ہے ٭ منور بدایونی

نہ کہیں سے دور ہیں منزلیں نہ کوئی قریب کی بات ہے
جسے چاہیں اس کو نواز دیں یہ درِحبیبﷺ کی بات ہے

جسے چاہا در پہ بلالیا ، جسے چاہا اپنا بنا لیا
یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے ، یہ بڑے نصیب کی بات ہے

وہ خدا نہیں ، بخدا نہیں، مگر وہ خدا سے جدا نہیں
وہ ہیں کیا مگر وہ کیا نہیں یہ محب حبیبﷺ کی بات ہے

ترے حسن سے تری شان تک ہے نگاہ و عقل کا فاصلہ
یہ ذرا بعید کا ذکرہے وہ ذرا قریب کی بات ہے

وہ مچل کے راہ میں رہ گئی ، یہ تڑپ کے در سے لپٹ گئی
وہ کسی امیر کی آہ تھی، یہ کسی غریب کی بات ہے

تجھے اے منور بے نوا در شاہ سے چاہیے اور کیا
جو نصیب ہو کبھی سامنا تو بڑے نصیب کی بات ہے

منور بدایونی​