وفورِ شوق کا یہ بھی کرشمہ دیکھ لیتے ہیں ہم اکثر جاگتی آنکھوں سے طیبہ دیکھ لیتے ہیں

وفورِ شوق کا یہ بھی کرشمہ دیکھ لیتے ہیں
ہم اکثر جاگتی آنکھوں سے طیبہ دیکھ لیتے ہیں

دکھا دیتے ہیں جلوہ پیارے آقا خواب میں آکر
وہ اپنے ہجر میں جس کو تڑپتا دیکھ لیتے ہیں

جو اپنے دل کو اُن کے ذکر سے آباد رکھتا ہے
ملائک اس بشر کے گھر کا رستہ دیکھ لیتے ہیں

مدینے کی زمیں پر رشک آتا ہے ہمیں بے حد
خصوصاً اُن کا جب نقشِ کفِ پا دیکھ لیتے ہیں

فقط اس واسطے عزت ہماری ہے جہاں بھر میں
ہمیں نظرِ کرم سے شاہِ والا دیکھ لیتے ہیں

ہمارے دل کا عالم نازؔ کیا ہوتا ہے کیا کہیے
کسی کو جب مدینے پاک جاتا دیکھ لیتے ہیں
عائشہ ناز شاہد علی (کراچی)