وہ جو ذات والا صفات ہے تری ذات ہے وہ جو روح و نور حیات ہے تری ذات ہے

شاہینؔ فصیح ربانی (مسقط)

وہ جو ذات والا صفات ہے تری ذات ہے
وہ جو روح و نور حیات ہے تری ذات ہے

مری خلوتوں، مری جلوتوں کی حدود میں
وہ جو ہر گھڑی مرے ساتھ ہے، تری ذات ہے

تو ازل سے پہلے، ابد کے بعد بھی تو ہی تو
کہ جہاں میں جس کو ثبات ہے تری ذات ہے

وہی تو کہ سب پہ عیاں ہے تو کہ جہاں ہے تو
وہ جو پھر بھی راز کی بات ہے تری ذات ہے

پسِ ہر یقین و گماں ہے تو، رگِ جاں ہے تو
پسِ سنگ و آب و نبات ہے تری ذات ہے

یہ تغیرات جہاں سے ہم پہ کھلا کہ ہاں
کہیں دن ہے اورکہیںرات ہے، تری ذات ہے

میں فصیحؔ عاصیٔ منفعل ہوں بہت خجل
وہ جو اعتبارِ نجات ہے، تری ذات ہے