وہ پیمبروں کے امیر ہیں، وہ محبتوں کے سفیر ہیں

وہ
پیمبروں کے امیر ہیں، وہ محبتوں کے سفیر ہیں
ہو
مثال اُن کی بیان کیا وہ عطائے ربّ قدیر ہیں
وہ
نظر بھی نورِ نظر بھی ہیں وہی دردِ دل کا علاج بھی
جہاں
کام بس ہو نوازنا اُسی در کے ہم بھی فقیر ہیں
یہ
جو رنگ و نکہت و نور ہے یہ عطائوں کا جو ظہور ہے
کبھی
چہرہ شمس مثال ہے کبھی زلفیں لیلِ نظیر ہیں
کچھ
ادائیں اتنی تھی دل رُبا کہ خدا بھی مدح سرا رہا
وہی
طٰہٰ ہیں وہی مصطفی وہ بشیر ہیں وہ نذیر ہیں
یہ
جو صبح و شام کا سلسلہ، یہ ہے عکسِ احمد مجتبیٰ
وہ
تو کہکشاں نہ چراغ ہیں وہ جو ہیں سراجِ منیر ہیں
جو
عذابِ جاں تمھیں گھیر لے تو اُمید اُن سے ہی باندھنا
وہ
شکستہ قلب کی آس ہیں وہی مومنوں کے نصیر ہیں
تسنیم
عابدی (ابوظہبی
)