وہ چاہے بے جان میں، ڈالے جب بھی جان انڈا اس کی شان ہے بچہ ہے پہچان

سیدزاہدحیدری (کراچی)

وہ چاہے بے جان میں، ڈالے جب بھی جان
انڈا اس کی شان ہے بچہ ہے پہچان

مٹھی بھر ہے خاک میں کیسی اس کی شان
گل سڑ کے پھر ہوئے ہم، مٹی کی پہچان

رب رب کرتا جو پھرے اس کو رب ہی ملے
جیون جیون جو کہے اگنی میں وہ جلے

کہتا جگ میں میں پھروں جگ کو دوتم تیاگ
چند برس کا معاملہ جاگ اٹھیں گے بھاگ

میں بکتا انمول ہوں کون لگائے مول
مورکھ اس کے نام کا دے دو تم اک بول

اللہ اللہ جو کرے، اللہ کی ہے شان
جس کے قبضے میں مری، ہے تیری بھی جان