٭ سورج ؔکرناٹکی (ہری ہر)

٭  سورج ؔکرناٹکی (ہری ہر)

محترم غلام ربانی فداؔ  مدیرِاعلیٰ سہ ماہی جہانِ نعت
امید کہ آپ کے مزاج گرامی
بخیر ہونگے۔
سہ ماہی جہانِ نعت موصول
ہوا ۔اللہ آپ کے حوصلوں کو مزید توانائی بخشے۔
شہزاد مجددی کا مقالہ اردو
نعتیہ شاعری میں موضوع روایات بہت عمدہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فرضی روایات نے اچھے
اچھوں کے دماغوں میں جگہ بنا رکھی  ہے۔
ضروری ہے کہ اس قسم کے مضامین مزید لکھے جائیں۔ اذہان کو دھندلکوں سے باہر نکالا
جائے۔ شعرا حضرات میں ان کا اثر اچھا خاصا ہے۔ خصوصاً
اس قسم کے شعرا کے ہاں جن
کا علم مذہب کے بارے میں بہت کم ہے یا سنا سنایا ہوا ہے۔ جناب محمد شہزاد مجددی کے
مضمون بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے انھوںنے بالکل صحیح لکھا ہے کہ آج کل واعظین
اور قصہ گو قسم کے مقررین نے یہ عام وتیرہ بنا لیا ہے کہ وہ بغیر علم کے احادیث
بیان کرتے رہتے ہیں۔اسی میں انھوں نے ایک اور اچھا کام یہ کیا ہے کہ نعت کے سلسلے
میں چند ژولیدہ باتوں کو واضح کردیا ہے۔کائناتِ نعت اور اخبارِ نعت کی جدت طرازی
بھی خوب ہے،گوشۂ خوشدلؔ  ٹھیک رہا مگر چند
اشعار خارج از بحر ہیں۔پروفسیر اکرم رضا کا مقالہ
ـــــــ نعت نگاری  میں احتیاط کے تقاضے اور دیگر مضامین بھی بہت
خوب ہیں۔اُردو نعت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لیے توُ، تم، تیرا
جیسے ضمائر استعمال کرنے پر اب تک صرف عوامی سطح پر ہی اعتراض سامنے آیا ہے اور
گزشتہ تیس چالیس سال کے دوران اس نے کسی حد تک ایک تحریک جیسی صورت اختیار کرلی ہے
حتیٰ کہ پاکستان میں شائع ہونے والے بعض نعت نمبروں میں ایسی نعتوں کو شائع کرنے
سے اجتناب برتا گیا جن میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لیے توُ، تیرا،
تم جیسے ضمائر استعمال کیے گئے ہیں اور پھر اس پر طرّہ یہ کہ اس سلسلے میں کسی
تحقیق و تدقیق یا مفتیانِ دین متین اور اکابرینِ ملت کے تعمل پر غور و فکر کرنے کی
بجائے (اس بے تحقیق رویے پر) اظہارِ فخر بھی کیا جاتا ہے۔جیسے کہ ہمارے اکابرین علمائے
اسلام اس مسئلہ سے بے خبررہے ہوں۔ ان حضرات سے زیادہ غیر ذمہ دارانہ رویہ ان رسائل
و جرائد کا نظر آتا ہے جنھوں نے اسلامی صحافت و ابلاغیات کے معینہ اُصولوں کو
بالائے طاق رکھتے ہوئے یک طرفہ طور پر محض قیاس آرائیوں کی بنیاد پر بلاتحقیق ان
شعراء کرام کی اُن نعتوں کو شاملِ اشاعت کرنے سے اجتناب کیا جن میں واحد کی ضمیر
استعمال کی گئی ہو۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ آج تک کسی بھی مکتب فکر کے کسی بھی مفتی
اعظم یا علمائے عظام کی جانب سے نعت میں واحد کی ضمیر کے استعمال کرنے کو ناجائز
قرار نہیں دیا گیا اور نہ اس پر کوئی اعتراض کیا گیا۔ چناںچہ ہم دیکھتے ہیں کہ
بریلوی مکتب فکر کے مولانا احمد رضاخان علیہ الرحمۃ،مفتی اعظم ہندمولانا مصطفیٰ
رضا خان، مفتی امیرمینائی، دیوبندی مکتبہ فکر کے بانی مولانا قاسم نانوتوی، ان کے
مرشد حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ۃ، مفتی محمد شفیع اور ان جیسے سیکڑوں اکابر
علمائے کرام کی جانب سے آج تک توُ، تم اور تیرا جیسی ضمیروں کے استعمال پر نہ صرف
کوئی اعتراض نہیں اُٹھایا گیا بلکہ ان میں سے بیش تر علمائے کرام کے نعتیہ اشعار
میں ان ضمیروں کو برتا گیا ہے اور برتا جارہا ہے۔ دراصل ان ضمائر کے استعمال میں
ایسے دقیق حقائق مضمر ہیں کہ جن سے عوامی سطح کی فکر رکھنے والے افراد واقف نہیں۔
لہٰذا معترضین کو علمائے سلف کی اتباع کرنی چاہیے تھی یا ان سے استفسار کیے بغیر
کوئی رائے قائم نہیں کرنی چاہیے تھی۔ باعث تخلیق کائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم
کو ضمائر مفرد سے یاد کرنے میں آپ کی شانِ یکتائی، شانِ بے مثالی اور شانِ یگانہ
و بے ہمتا کا اظہار ہوتا ہے
دراصل اُردو زبان میں تمام
ضمائر اور مصادر ہندی زبان سے لیے گئے ہیں۔ اس لیے جو لوگ ہندی زبان کے زیر اثر
شعر کہتے ہیں ان کے یہاں تعظیم کے لیے آپ یا تم جیسی ضمیروں کا استعمال نظر آتا
ہے۔ اس کے برعکس جو شعرائے کرام عربی زبان کے زیر اثر نعت کہتے ہیں ان کے یہاں
ضمائر کی بجائے قرآن و حدیث کی پیروی میں تعظیم کے لیے کنیت یا القاب کا استعمال
عام ہے۔
یا آدم است با پدر انبیا
خطاب
یا ایھا النبی خطاب محمد
است
ہندی زبان کی ضمیر ’’آپ‘‘
اگر واقعی تعظیم کے لیے ہے تو اس تاثر کی جڑ بالکل کھوکھلی ہے کیوںکہ عام طور پر
چھوٹے بچوں، شاگردوں یا خادموں کو تنبیہ کے لیے اس قسم کے الفاظ کہہ دیئے جاتے ہیں
جیسے ’’آپ نالائق ہیں‘‘ یا ’’آپ بہت بدمعاش ہو گئے ہیں‘‘ یا ’’آپ کی ایسی کی
تیسی‘‘وغیرہ۔ توکیا یہ تعظیم ہے یا محض ایک مخصوص ثقافتی رویہ ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ دنیا
کی تمام زبانوں میں فصیح ترین زبان عربی ہے اور تمام عربی قبائل کے لہجوں میں لہجہ
قریش افضل و اعلیٰ اور فصیح تر قرآنی لہجہ ہے لہٰذا
قرآن کریم کی اتباع میں
نعت نگاری میں مناسب القاب کے ساتھ اسم واحد کی ضمیر ’’توُ‘‘ کے استعمال میں کوئی
شرعی سقم نہیں۔البتہ خلوصِ نیت کے ساتھ تعظیماً لفظ ’’آپ‘‘ استعمال کرنے میں بھی
کوئی قباحت نہیں۔ لہٰذا ارفع و اعلیٰ مضامین کے ساتھ دونوں طرح کی ضمائر استعمال
کرنے کی راہ نظر آتی ہے۔ چناںچہ اس معاملے میں کسی قسم کی شدت کا مظاہرہ نہیں
کرنا چاہیے یہی راہِ اعتدال ہے۔ واللہ اعلم بالصواب
!