پل پل کی میں روداد رقم کرتا چلاجائوں صدیوں کے لئے خود کو بہم کرتا چلاجائوں

غلام مرتضیٰ راہیؔ

پل پل کی میں روداد رقم کرتا چلاجائوں
صدیوں کے لئے خود کو بہم کرتا چلاجائوں
اٹھ کر ترے در سے مجھے جانا ہوجہاں بھی
محسوس ترا لطف و کرم کرتا چلا جائوں
رکھے مجھے توفیق سب بار ہمیشہ
احسان کو احسان میں ضم کرتا چلا جائوں
ٹھہروں ترے نزدیک میں کردار کا غازی
پورے میں سبھی قول و قسم کرتا چلا جائوں
دنیا سے مرا فاصلہ بڑھتا رہے چاہے
تجھ سے جو ہے دوری اسے کم کرتا چلا جائوں
ہر آن کوئی تازہ تڑپ رخت سفر ہو
جو زخم ملے سینے میں دم کرتا چلا جائوں
فرق آئے نظر نشو و نما میں مجھے جن کی
ایسی سبھی شاخوں کو قلم کرتا چلا جائوں
آج اس کے چلے جانے کے افسوس میں شامل
کل اپنے نہ رہنے کا بھی غم کرتا چلا جائوں
دریا کی خوشامد نہ کروں پیاس کے ہوتے
ہونٹوں پہ زباں پھیر کے نم کرتا چلا جائوں