پھر دیارِ پاک کا اے کاش منظر دیکھتے – حمید صدیقی لکھنوی

پھر دیارِ پاک کا اے کاش منظر دیکھتے
پھر رسولُ اللہ کا دربارِ انور دیکھتے

بڑھ کے ہو جاتی نگاہِ شوق مصروفِ طواف
دور سے جب گنبدِ خضرا کا منظر دیکھتے

شوق میں کوہِ اُحد پر پھر پہنچتے ایک بار
اور خود اپنا بلندی پر مقدر دیکھتے

آ کے فرطِ شوق میں بابِ مجیدی کے قریب
پھر سحر کا وہ نظر افروز منظر دیکھتے

وہ بہارِ روضہ ء جنت فضائے نور میں
بابِ رحمت سے ذرا کچھ دور ہٹ کر دیکھتے

ڈرتے ڈرتے جالیوں کے پاس ہوتی حاضری
نیچی نظروں سے جمالِ پردہ ء در دیکھتے

آنکھ اپنی کھولتے جس وقت ہم پڑھ کر سلام
برقِ رحمت کی چمک جالی کے اندر دیکھتے

رہ گئی پاسِ ادب سے اپنی تھرا کر نظر
تابِ نظارہ اگر ہوتی ، مکرر دیکھتے

وہ حریمِ قدس ، وہ آرام گاہِ شاہِ دیں
کوئی صورت ہے حمید ایسی ، برابر دیکھتے

(حمید صدیقی لکھنوی)​