پھر لے کے چلا مجھ کو وِجدان مدینے میں پھر ہوگی ہر اِک مشکل آسان مدینے میں

پھر لے کے چلا مجھ کو وِجدان مدینے میں
پھر ہوگی ہر اِک مشکل آسان مدینے میں
یہ دیکھ کے ہوں مَیں بھی حیران مدینے میں
ہوتی ہے غلاموں کی کیا شان مدینے میں
دوری میںبھی رہتا ہوں سر شار حضوری سے
ہے جسم تو کھنڈوا میں اور جان مدینے میں
کرتے رہیں ہم پیہم ، کرتے رہیں ہم پیہم
دن رات درودوں کی گردان مدینے میں
سب چھوڑا چھڑاکر چل، چل تجھ کو ملے گا چل
تسکین دل و جاں کا سامان مدینے میں
کنبہ بھی مِرا آئے ، ہمراہ میرے آقا
پورے ہوں سبھی دل کے ارمان مدینے میں
اِک بار ہی نظّارہ، مل جائے نگاہوں کو
جاتی ہے چلی جائے، پھر جان مدینے میں
عمرے کی سعادت جو، حاصل ہو تو گزریںگے
امسال ضرور اپنے رمضان مدینے میں
اللہ نے چاہا تو، لکھیں گے حبابؔ ہم بھی
اک نعتِ محمد کا، دیوان مدینے میں
نکلے گا سلامی کا، نکلے گا سلامی کا
نکلے گا سلامی کا، ارمان مدینے میں
اے کاش کے موت آئے، سرکارکے قوموں میں
اللہ کا ہوجائے، احسان مدینے میں
ایمان سے کہتا ہوں، ایمان سے کہتا ہوں
ایمان سے! ملتا ہے ایمان مدینے میں
حسنین کے صدقے میں ، نعلین کے صدقے میں
ہوجائے گی اپنی بھی پہچان مدینے میں
احساسِ زیاں کیا ہے ، آ دیکھ یہاں کیا ہے
پھرتا ہے چھپائے منھ، نقصان مدینے میں

اس گنبد خضری سے ملتا ہے حبابؔ ہم کو
انوارِ تجلّی کا فیضان مدینے میں
حبیب راحت حباب (کھنڈوہ ۔بھارت)