پھر مرے قلب و نظر نور سے بھردے مولا پھر اٹھا دے یہ حجابات کے پردے مولا

حبیب راحت حبابؔ

پھر مرے قلب و نظر نور سے بھردے مولا
پھر اٹھا دے یہ حجابات کے پردے مولا

ہو چکے راستے مسدود سبھی کوشش کے
اب دعائوں کو ہی تاثیر و اثر دے مولا

آسمانوں کی بلندی تو تجھے زیبا ہے
خاک زاروں کو زمینوں کی خبر دے مولا

میرے احباب کے دل اور کشادہ کردے
مجھ مہاجر کو نہ دیوار نہ در دے مولا

ہو تیرے حق و صداقت کا علم دار حبابؔ
عیب لاکھوں دے اسے ایک ہنر دے مولا