پہنچتا ہے پیام تازہ مجھ تک دم بہ دم اس کا بیاضِ دل پہ کیا کچھ لکھتا رہتا ہے قلم اس کا

مخمورؔسعیدی

پہنچتا ہے پیام تازہ مجھ تک دم بہ دم اس کا
بیاضِ دل پہ کیا کچھ لکھتا رہتا ہے قلم اس کا
سروں پہ سایۂ رحمت ہے اس کا آسماں کب سے
زمیں کیا ہے؟ ہمارے واسطے خوانِ کرم اس کا
ہماری روحِ خوابیدہ کو ہے انعامِ بیداری
جسے ہم اپنی غفلت سے سمجھتے ہیں ستم اس کا
حدوثِ وقت کیا ہے؟ اک جھلک اس کے تجمل کی
کہ روزوشب کے ہر منظر میں ہے حسن قدم اس کا
خیالوں پر سرِ شام اس کے سائے پھیل جاتے ہیں
نگاہوں میں چمک اٹھتا ہے پر تو صبحدم اس کا
صنم خانوں سے آواز اذاں آنے لگی مجھ کو
سنا ہے میں نے جب چرچا سرِ صحنِ حرم اس کا
کہیں شعلوں میں اس کا عکسِ رنگیں پھول سا مہکے
کہیں آئینہ بن جاتے ہیں پتھرکے صنم اس کا
اسی کی لشکری تھیں بحروبر کی طاقتیں ساری
مگر مجھ ناتواں کے ہاتھ میں آیا علم اس کا
نہیں مخمورؔ ان آنکھوں کی قسمت میں جو دیداس کی
رہے آئینہ دل میں تو پرتو کم سے کم اس کا