پہنچے کہاں کہاں نہ حبیبِ خداﷺ کے ہاتھ

پہنچے کہاں کہاں نہ حبیبِ خداﷺ کے ہاتھ
کونین کا ہے نظم و عمل مصطفی ﷺ کے ہاتھ

محروم رہ نہ ساقی ء کوثر ﷺ کے فیض سے
پڑھ کر دُرود ، جام اُٹھا لے ، بڑھا کے ہاتھ

ہر سانس وقف ہے شہِ لولاک ﷺ کے لیے
میری طرف بڑھیں گے ادب سے قضا کے ہاتھ

آیا ہوں جب سے ہو کے درِ مصطفیﷺ سے میں
خاکِ قدم سمیٹ رہے ہیں ہَوا کے ہاتھ

ہوگی رسائی صدقہ ء خیر الانام ﷺ میں
پہنچیں گے عرش تک مری ہر اک دعا کے ہاتھ

میرے لیے مدینہ سے لائی ہے یہ پیام
کیوں چُوم لوں نہ وجد میں آ کر صبا کے ہاتھ

دامن رسولﷺ کا مرے ہاتھوں میں آگیا
یہ ہاتھ شاہ کے ہیں ، نہیں بے نوا کے ہاتھ

آسان ان کے واسطے ہے راہ خلد کی
وہ جن کی رہنمائی ہے آلِ عبا کے ہاتھ

سلطانِ انبیاء کی نگاہیں جو پڑ گئیں
شل ہو کے رہ گئے ستمِ ناروا کے ہاتھ

دیوانہء حبیبِ خدا ﷺ ، جو نصیر ہو
باتیں کریں فرشتے بھی اس سے ملا کے ہاتھ

(سید نصیر الدین نصیر)​