ڈاکٹر شکیل اعظمی کی نعتیہ شاعری

ڈاکٹر شکیل اعظمی کی نعتیہ شاعری

ظفرالاسلام
شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی

Mb.9336239933
Email.zafar.ghosi@gmail.com
لفظ ’’ نعت‘‘ عرف عام میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف و توصیف اور ثنا کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ صحابۂ کرام حضوسے بے پناہ محبت کرتے تھے ۔ آپ کی شان میں ہمہ وقت درود و سلام کا گلدستہ پیش کرتے تھے۔ عربی زبان میں سب سے پہلے نعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پیش کرنے والے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ ہیں۔ علامہ بو صیری علیہ الرحمہ کا قصیدہ بردہ شریف جوعربی میں ہے نعت ہی کے زمرے میں آتا ہے۔ ساتویں صدی ہجری میں لکھے گئے اس قصیدہ کو آج بھی اہل ذوق وجد کے انداز میںپڑھتے ہیں۔ اس کو آج دنیا کے تمام اسلامی ممالک بالخصوص مصر، شام، ترکی کے علاوہ ہندو پاک میں بھی شوق سے پڑھا جاتا ہے۔آج دنیا کی تقریباً تمام زبانوں میں نعت لکھی اور پڑھی جاتی ہے۔ ہندوستان میںاولاً فارسی زبان میں ایک بڑی تعداد میں نعت لکھی گئی۔ شیخ فریدالدین عطار، امیر خسرو دہلوی، مولانا جامی، عرفی، قدسی جیسے تمام مشہور و معروف شعرا نے عشق رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں نعت نبی پیش کیں۔
اردو زبان میں نعت نگاری کی ابتدا اس کے آغاز کے ساتھ ہی وجود میں آجاتی ہے۔ لیکن اولاً کس شاعر نے سب سے پہلے نعت پیش کی ہم یہ وثوق سے نہیں کہہ سکتے۔ اس کے اولین نمونے ہمیں مثنویوں میں نظر آتے ہیں۔ شاعر مثنوی کی ابتدا میں حمد کے بعد نعت کے چند اشعار لکھتا تھا۔اردو کے کس شاعر نے محض نعت کو اپنا موضوع سخن بنایا اس کے متعلق ڈاکٹر محمد عاصم اعظمی اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں:
(اردو میں نعت نگاری) ’’اس سعادت مندی کا اولین سہرا مولانا غلام امام شہید ( م ۱۲۹۳ھ) کے سر ہے۔ اس کے بعد کافی مرادآبادی ، لطف علی لطف بریلوی، محسن کاکوروی، اور ابرار عالم صابری فتح پوری نے اس روایت کو آگے بڑھایا۔’’پھر امام عشق و ارادت اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ ورضوان نے نہ صرف اس جز و ایمان صنف (نعت) کو اپنے سینے سے لگایا بلکہ اسے معراج کمال تک پہنچایا۔‘‘ (’’مقدمہ‘‘ سیل نور، از ، نثار کریمی، ۲۰۰۷ ص ۱۵)
یقینا نعت نگاری ایک مشکل فن ہے اس کا اعتراف معتبر عالم دین نے کیا ہے۔ امام احمد رضا خان بریلوی لکھتے ہیں:
’’ حقیقتاً نعت لکھنا بہت مشکل کام ہے۔ اس میں تلوار کی دھار پر چلنا ہے۔ اگر شاعر بڑھتا ہے تو الوہیت میں پہنچ جاتا ہے اور کبھی گرتا ہے توتنقیص ہوتی ہے۔ حمد آسان ہے اس میں راستہ صاف ہے جتنا چاہے بڑھ سکتا ہے لیکن نعت شریف میں سخت حد بندی ہے۔‘‘ ( تہنیت النسا تہنیت، ایم۔آر پبلیکیشر،۲۰۰۹ ص۱۲)
مفتی مجیب اشرف رضوی لکھتے ہیں:
’’حقیقت یہ ہے کہ فن نعت گوئی بہت مشکل فن ہے، اتنا مشکل کہ کچھ لوگ اس کی راہ کی دشواریوں کو دیکھ کر گھبرا گئے اور صنف شاعری سے ہی خارج کر دیا۔ ایسا کرنا ان کی پست ہمتی، کم مائیگی اور ذہنی مجبوری تھی۔‘‘ (گل قدس، برکات اکیڈمی، ۲۰۱۰، ص ۲۲)
یقینا نعت لکھنا ایک مشکل فن ہے۔ اس فن میں دیگر اصناف کے مقابلے کہیں زیادہ احتیاط و احترام کی ضرورت ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ کم پڑھے لکھے شعرا نے بھی فن نعت گوئی میں طبع آزمائی کی ہے ان میں بعض کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ مگرحقیقت میں عمدہ نعت لکھنے کے لیے ضروری ہے کہ شاعر کا مطالعہ وسیع اور نظر گہری ہو۔ اس کی تعلیم قرآن و حدیث کی روشنی میں ہوئی ہو۔جبھی وہ نعت گوئی کے حق کو پوری طرح سے ادا کر سکتا ہے۔ چوںکہ یہ تمام خصوصیات شکیل اعظمی میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ وہ عالم بھی ہیں، ادیب بھی ہیں، شاعر بھی ہیں اور نعت کے فن اور اس کی عظمت کو خوب سمجھتے ہیں۔
ڈاکٹر شکیل اعظمی کی پیدائش ۱۲؍ ستمبر ۱۹۴۲ ء کو محلہ کریم الدین پور بگہی، پوسٹ گھوسی ضلع اعظم گڑھ ( موجودہ ضلع مئو) یوپی میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم مدرسہ شمس العلوم گھوسی میں ہوئی۔ بعدہ جامعہ اشرفیہ مبا رک پور ضلع اعظم گڑھ سے درس نظامی کی سند حاصل کی۔ فراغت کے بعد علم طب کی طرف راغب ہوئے اور یونانی میڈیکل کالج الہ آباد سے ۱۹۶۴ء میں ایف.ایم.بی.ایس کی تعلیم اول پوزیشن کے ساتھ مکمل کی۔ ابتدائی زمانے سے ہی شاعری کا شوق تھا۔ ۱۹۶۱؁ء میں پہلی نظم لکھ کر اس شوق کو مزید توانائی بخشی جو ہنوز جاری ہے۔ پہلی غزل ماہنامہ ’’بیسویں صدی‘‘ میں ۱۹۷۱ء میں شائع ہوئی۔ زندگی کی تمام تر مصروفیات کے باوجود آپ کا شعری سفرتقریباً۵۷ برس مکمل کر چکا ہے۔ اب تک چار کتابیں ’’ گل قدس ، حرف ثنا، آشوب آگہی اور شعور نظر‘‘ شائع ہو چکی ہیں۔
اردو آج ہندوپاک کی مقبول ترین زبان ہے۔ اس میں نعت کی روایت دو سو سال سے بھی تجاوز کر چکی ہے اور بے شمار شعرا نے فن نعت گوئی میں طبع آزمائی کی ہے۔ اس بھیڑ میں شکیل اعظمی نے اپنی ایک منفرد شناخت قائم کی ہے۔ شاعری کی ابتدا غزل سے ہوئی مگر جلد ہی نعت کی طرف قلبی رجحان ہو گیا۔ خودلکھتے ہیں:
’’ پھر بتقاضائے ذوق ایمانی غزل اور نظم نگاری کا سلسلہ کم ہوتا گیا، اور نعت گوئی کا ذوق بڑھتا گیا، اور اب تو میں نے اپنے کریم آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح و ثنا اور نعت گوئی کو اپنا وظیفۂ حیات اور نعت پاک کی صورت میں سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور خراج عقیدت و محبت پیش کرنا اپنا شعار زندگی بنا لیا ہے۔‘‘ (گل قدس، ص ۸)
لکھتے ہی رہیے نعت رسول خدا شکیلؔ
آپ اپنا کوئی وقت نہ برباد کیجئے
شکیل اعظمی کا نعتیہ مجموعہ ’’گل قدس‘‘ کے نام سے ۲۰۱۰ء میں برکات اکیڈمی سے شائع ہوا۔ یہ مجموعہ ۱۴۵ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کی ابتدا حمدباری تعالیٰ ’’ مجھ کو غم سے رہائی دے مولا‘‘ سے ہوتی ہے۔ اس میں کل ۵۸ نعت شامل کی گئی ہیں۔ کتاب کا انتساب اپنے والدین اور حافظ ملت شاہ عبد العزیز محدث مرادابادی، بانی الجامعۃالاشرفیہ مبارکپور اعظم گڑھ کے نام ہے۔ عرض حال کے عنوان سے مصنف نے اپنی شاعری کی ابتدا اور گھر کے علمی وادبی ماحول کا ذکر کیا ہے۔ جس نے ان کو شاعری کی جانب متوجہ کیا۔ انھیں اس بات کا احساس بھی ہے کہ وہ نعت کا حق پوری طرح ادا تو نہیں کر پائیں گے۔لیکن دل کی تسکین کے لیے اس مشغلہ کو اپنا ئے ہوئے ہیں۔ ایک شعر میں کہتے ہیں:
نعت نبی کا حق تو نہ ہوگا ادا شکیلؔ
اپنے قلم کا فرض ادا کر رہا ہوں میں
شکیل اعظمی ایک بزرگ عالم دین، بہترین مصنف، اعلیٰ پایہ کے شاعر اور حاذق طبیب ہیں۔ ان عظمتوںکا اعتراف عہد حاضر کے کئی ادیبوں اور شاعروں نے کیا ہے۔ بیکل اتساہی آپ کی خوبیوں کا اعتراف ان الفاظ میں کرتے ہیں:
تمہارے روپ کے ہیں رنگ کتنے
جو دیکھے اس کو حیرانی لگے ہے
(گل قدس، ص ۲۰)
نعتیہ شاعری محض لفظوں کی تراش خراش، ردیف اور قافیہ کے استعمال کا نام نہیںہے ۔ بلکہ چند لوازمات اور تقاضوں کی پابندی باشعور نعت گو شعرا کے لیے از حد ضروری ہے ۔ ان میں سب سے اولین شرط سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم سے سچا عشق ہے۔ اسی مضمون کو شکیل اعظمی نے پیش کیا ہے:
عشق کا سچا جذبہ ہو تو کیف و اثر ہو شعروں میں
ورنہ نعت کا ہر اک مصرع لفظوں کا انبار لگے
عاجزی و انکساری صحابۂ کرام اور بزرگان دین کا شیوہ رہا ہے۔ شکیل اعظمی کے کلام میں عاجزی اور انکساری کا جذبہ بدجۂ اتم پایا جاتاہے۔ وہ اللہ کے حضور والہانہ انداز میں اپنے مسائل و پریشانیوں کے خاتمہ کی دعا کرتے ہیں۔ کیوںکہ وہ ایک عالم باعمل ہیں اور اللہ کی رحمت سے پر امید ہیں:
میرے اللہ مسائل مرے آساں کر دے
ان بھڑکتے ہوئے شعلوں کو گلستاں کر دے
نعت کا موضوع ہی رسول پاک سے محبت، ان کی تعریف و توصیف بیان کرنا ہے۔ نبی کا امتی روضۂ رسول صلی اللہ وسلم کی زیارت کو اپنے لیے معراج حیات سمجھتا ہے۔ سچا عاشق رسول گنبد خضریٰ، در رسول اور مدینے کی گلیوں سے بھی بے پناہ محبت کا اظہار کرتا ہے۔ وہاں کی حاضری کے لیے ہرساعت بے قرارہتا ہے۔ گنبد خضریٰ کے سائے میں پہنچ کر ہی اس کو قرار نصیب ہوتا ہے۔ ان کے نعتیہ کلام میں انھیں جذبات اور تڑپ کا احساس ہوتا ہے۔ اشعار ملاحظہ ہوں:
در رسول پہ اے کاش حاضری ہوتی
نصیب مجھ کو بھی معراج زندگی ہوتی
میں ہوتا، گنبد خضرا کی چاندنی ہوتی
تو ذکر پاک کی لذت کچھ اور ہی ہوتی
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے اگر محمد صلی اللہ وسلم کو پیدا کرنا میرا مقصد نہ ہوتا تو یہ زمین و آسمان، یہ چاند ستارے، سورج اور پہاڑ کو پیدا نہ کرتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار اس وقت سے کیا جا رہا تھا جب سے دنیا قائم ہوئی۔ جملہ انبیاء کرام نے آپ کی بعثت کی خبریں اپنے اپنے امتیوں کو دیں۔ رسول پاک جب دنیا میں تشریف لائے تو وہ صبح کا وقت تھا۔ اسی وجہ سے آج بھی صبح کے وقت رنگینی اور غنچے لالہ زار ہوا کرتے ہیں۔ ان اشعار سے اس کی ترجمانی ہوتی ہے۔
منتظر جس کا ازل سے تھا جہان ہست و بود
وہ خدا آگاہ سوئے بزم عام آہی گیا

کس کی آمد کی خوشی میں آج تک وقت سحر
غنچہ کھلتا جائے ہے، سبزہ لہکتا جائے ہے
نعت پاک میں درود و سلام پیش کرنا بھی نعت کے فن میں شامل ہے۔ اللہ رب العزت قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے۔ ’’ان اللہ و ملٰئکتہ یصلون علی النبی یا ایھا الذین اٰمنو صلو علیہ وسلمو تسلیما‘‘ ترجمہ (بیشک اللہ اور اس فرشتے درود بھیجتے ہیںاس غیب بتانے والے (نبی) پراے ایمان والو ان پر درود اور خوب سلام بھیجو) (کنزالایمان ص ۶۱۷) شکیل اعظی نے اس روایت کو برقرار رکھا ہے۔ اشعار ملاحظہ ہوں:
وہ سب سے بہتر وہ سب سے برتر درود ان پر سلام ان پر
نہیں ہے خلقت میں کوئی ہمسر درود ان پر سلام ان پر
کریں جو کونین پر حکومت جو باٹیں دونوں جہاں کو نعمت
وہ باندھیں اپنے شکم پہ پتھر درود ان پر سلام ان پر

سرمایۂ دل ہے یاد نبی، سرمایۂ جاں ہے ذکر نبی
پڑھتے رہو پیہم صلّ علیٰ، ہے سرور دیں کی بزم سجی
شکیل اعظمی نے حیات رسول کے واقعات کو اپنی شاعری میں بڑی چابک دستی سے پیش کیا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بے سایہ ہونا۔جس کا ذکر حدیث پاک میں بھی آیاہے۔ آپ دشمنوں کے بچوں سے بھی محبت سے پیش آتے تھے۔ ایک جنگ کا واقعہ ہے کہ جس میں چند بچے مارے گئے۔ اللہ کے رسول بہت زیادہ رنجیدہ ہوئے۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول للہ وہ کفار کے بچے تھے۔ آپ نے فرمایا وہ بچے تو تھے۔ یوم فتح مکہ کو بھلا کون بھلا سکتا ہے۔ جب آپ نے اپنے کفار دشمنوں کو معافی کا پیمانہ دے دیا۔اشعار میں انھیں واقعات کی جانب اشارہ ہے:
اسے بھی بخش دیا جس نے ظلم ڈھایا ہے
اسے بھی پیار کیا جس نے دل دکھایا ہے
وہ ایک نور مجسم کہ جس کا سایا نہیں
تمام عالم امکاں پہ اس کا سایا ہے
حمد ایک علاحدہ صنف ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی تعریف و توصیف بیان کی جاتی ہے۔ لیکن نعتیہ کلام میں حمد کے اشعاربھی کثرت سے پایے جاتے ہیں۔ یہ شاعری کی قدیم طرز ہے۔ شکیل اعظمی نے بھی اس طرزسخن کو اختیار کرتے ہوئے اپنے نعتیہ کلام میں حمد کے اشعار پیش کیے ہیں۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں:
قوم مسلم ہو چکی خوار و تباہ
بخش دے یا رب اسے پھر عز وجاہ
کر نہ دے مغلوب شیطانوں کا زور
مانگتے ہیں اے خدا تیری پناہ
دعا رَبِّ کائنات کے نزدیک بہت ہی پسندیدہ عمل ہے۔ اللہ تعالیٰ بندوں کی دعا کو خود سنتا ہے۔ عاجزی و انکساری کے ساتھ دعا کرنا ، اپنے گناہوں کا اعتراف کرنا، ان پر نادم و شرمندہ ہونا مومن کے لیے ایسا ہی ہے گویا اس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو۔ دعا میں اگر اللہ کے محبوب کا وسیلہ تلاش کیا جائے تو یہ اور ہی پسندیدہ عمل ہے۔ شاعر نعت رسول میں اپنی تباہی و بربادی کا بیان، دشمنوں کے ظلم و ستم کا گلہ شکوہ کرتے ہوئے اللہ سے دعا کرتا ہے۔ ایسے ہی واقعات کو شکیل اعظمی نے بھی بیان کیا ہے۔ ملاحظہ ہو:
ہر اک جانب سے ہے یلغار پیہم یا رسول اللہ
نہ ہوجائیں ہمارے حوصلے کم یا رسول اللہ
کریں جو حکم پر تیرے عمل ہم یا رسول اللہ
تو پھر ہوگا نہ دنیا کا کوئی غم یا رسول اللہ
کرم کی اک نظر اب ضبط کی طاقت نہیں باقی
ستم ڈھاتے ہیں دشمن ہم پہ ہر دم یا رسول اللہ
نعت گوئی میںجہاں حضور کی سیرت و کردار، عادات و خصلات کا ذکر کیاجا تا ہے۔ وہیں جنگ و جدال کے واقعات کی تفصیل، معراجـ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بیان، معجزات کا ذکرمثلاً کنکریوں کا کلمہ پڑھنا، چاند کا دو ٹکڑے ہونا، سورج کا دوبارہ نمودار ہونا وغیرہ کا ذکر بھی اکثر شعرا کرتے ہیں۔ شکیل اعظمی نے بھی ان مضامین کو اپنی نعت میں سمیٹا ہے۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں:
بنا دے آج بھی شاخوں کو صورت شمشیر
کہ ہم سے بر سر پیکار ہیں سناں والے

کبھی کلمہ پڑھنے لگے حجر کبھی سینہ چاک کرے قمر
کبھی شمس بدلے رخ سفر یہ مرے نبی کا کمال ہے
اللہ رب العزت نے قرآن پاک میں حضور کو یٰس طٰہ ٰاور مدثر جیسے ناموں سے یاد کیا ہے اپنے محبوب کی مدح و ثنا فرمائی ہے۔ جس ذات پاک کی مدح اللہ نے کی ہو اس کی مدح سرائی بندوں سے کہاں ممکن ہے۔شاعر نے اسی جانب اشارہ کیا ہے۔
حق تعالیٰ خود ہے جب مداح نام مصطفی
پھر سمجھ پائے گا کیا کوئی مقام مصطفی
کہہ دیا طٰہٰ کہیں یٰس و مدثر کہیں
رب نے رکھا کتنا پیارا پیارا نام مصطفی
حب رسالت اور نبی کریم صلی اللہ وسلم سے الفت و محبت کا جذبہ جس کے دل میں سما جاتا ہے۔ دنیا کی دیگر چیزیں اس کے لیے بے لطف و بے معنی ہو جاتی ہیں۔جو امتی آقا کی محبت کا جام نوش کر لیتا ہے وہ دنیا کی ہر شے سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ شکیل اعظمی کے دل میں رسول سے قلبی عشق ہے۔ مفتی مجیب اشرف رضوی ان کے متعلق لکھتے ہیں:
’’آپ کے اندر عشق سرور کائنات فخر موجودات صلی اللہ علیہ وسلم کا نکھرا ہوا رنگ و آہنگ پایا جاتا ہے۔ آپ کے جذبۂ عشق رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے بہت زیادہ اس وقت محسوس کیا جب موصوف نے ۱۹۹۸ میں فقیر کے ساتھ حرمین طیبین کی حاضری کی سعادت حاصل کی، مکہ مکرمہ بالخصوص مدینہ منورہ کی حاضری کے دوران قدم قدم پر آپ کی اس شیفتگی اور وارفتگی کا برملا اظہار ہوتا رہا۔‘‘ (گل قدس، برکات اکیڈمی،۲۰۱۰، ص ۲۲)
کیوں کر نہ ہو وہ فکر دو عالم سے بے نیاز
ہاتھوں میں جس کے حب رسالت کا جام ہے

پھر کبھی بیگانۂ ہوش و خرد ہوتا نہیں
جو بھی صرف اک بار پی لیتا ہے جام مصطفی
حضور کے حسن و جمال کا ذکر بارہا صحابۂ کرام نے احادیثِ مبارکہ میں کیا ہے۔آپ جیسا حسین وجمیل اللہ نے نہ کسی انسان کو اب تک پیدا کیانہ کوئی قیامت تک پیدا ہوگا۔ خود رب کعبہ نے آپ کے رخسار اور گیسو کی تعریف قرآن میں کی ہے۔ آپ کے گیسو کو والّیل اور چہرے کو التمش کہا ہے۔ شکیل اعظمی کے کلام میں بھی یہ مضامین ملتے ہیں۔ ملاحظہ ہوں:
شفق کے رنگ میں شمس و قمر میں تاروں میں
کہاں کہاں نہیں پہنچا تیرے جمال کا نور
آپ اتنے جو اللہ کو پیارے نہیں ہوتے
توصیف میں قرآن کے پارے نہیں ہوتے
نعت پاک میں حضور کی سیرت نگاری ، ان کی تعریف و توصیف، ان کے کرامات و معجزات وغیرہ کا بیان اکثر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ حضور کے شہر مدینہ جانے کی تڑپ، اس کے دروددیوار سے الفت و محبت، اس کی خاک کو سرمہ بنانے کی خواہش، مدینہ میں موت آنے کی دعا جیسے موضوعات کو شعراپیش کرتے ہیں۔ ایک سچے عاشق رسول کی یہ دلی خوہش بھی ہوتی ہے کہ اسے بار بار دیدار مدینہ نصیب ہو۔ شکیلؔ اعظمی کی نعتیہ شاعری کے مطالعہ سے ہمیں ان کی مدینہ سے دلی وارفتگی، قلبی لگاؤ اور والہانہ الفت و محبت کا احساس ہوتا ہے۔ اس ضمن کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:
خدا کرے کہ تمنا یہ دل کی پوری ہو
مروں میں کوچۂ طیبہ میں زندگی کے لیے

ایک سچے عاشق رسول کو جب حج بیت اللہ اور مدینہ منورہ کی زیارت وسعادت نصیب ہوجائے۔ پھر اس کی خوشی و مسرت کا کیا کہنا۔ اس کیفیت کا اندازہ صرف وہ شخص لگا سکتا ہے جسے وہاں کی زیارت کا شرف حاصل ہو چکا ہو۔ چوںکہ شاعر کی نظر زیادہ گہری ہوتی ہے وہ ان مقامات کا زیادہ گہرائی سے مطالعہ کرتا ہے۔ پھر اس سرزمین کے ہر ہر گوشے ، اورہر ہر لمحہ کو اپنے کلام کا موضوع بناتا ہے۔ شکیل اعظمی نے سفر مدینہ منورہ و مکہ معظمہ کے واقعات اور حالات کو بڑی خوبصورتی سے ایک نعت میں سمویا ہے۔ مندرجہ ذیل نعت کو اگر ان کا سفر نامۂ حج کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ اس کے ہر ہر لفظ میںعشق کا جذبہ نظر آتا ہے۔ ملا حظہ ہو:
ہے مدینہ دیار حسن و جمال
اس کے لیل و نہار کیا کہنا
اک گنہگار ہے گناہوں پر
اس قدر شرمسار کیا کہنا
سامنے جلوہ گاہ جاناں ہے
اے دل بیقرار کیا کہنا
شوق سے آنکھوں میں لگاتے ہیں
ان کے در کا غبار کیا کہنا
وہ تو سب دل کا حال جانتے ہیں
ان سے پھر حال زار کیا کہنا
گرد کعبہ طواف کرتے ہیں
ہو کے دیوانہ وار کیا کہنا

سنگ اسود پہ چومتے ہیں ہم
نقش لب ہائے یار کیا کہنا
قبلہ رو ہو کے آب زمزم کا
پینا یوں بار بار کیا کہنا
حاجیوں کا منیٰ کی وادی میں
جوش رمیٔ جمار کیا کہنا
وقت رخصت دیار طیبہ سے
آنکھیں ہیں اشکبار کیا کہنا
سبز گنبد کو چشم حسرت سے
دیکھنا بار بار کیا کہنا
ایک دیوانہ ہو کے ان سے جدا
روتا ہے زار زار کیا کہنا
شہر یار حرم کے در پہ شکیلؔ
جان و دل ہے نثار کیا کہنا
حج بیت اللہ کی سعادت اور مدینہ منورہ کی زیارت کے بعدایک شاعرکی فکر میں مناسب تبدیلی نظر آتی ہے۔ اس کے انداز بیان میں وسعت آجاتی ہے۔ وہ شعر کہتا ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سارے مناظر اس کی آنکھوں کے سامنے گردش کر رہے ہیں۔ وہ کھلی ہوئی آنکھوں سے ان خوبصورت مناظر کا نظارہ کر رہا ہے۔ اس پاک سرزمین کا ادب و لحاظ ہر حاجی کے لیے اولین شرط ہے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی عظمت کس قدر شاعر کے دل میں بسی ہوئی ہے۔ وہ شہر مدینہ کے ذرے اور خاک کو تعظیم کے قابل خیال کرتا ہے۔ شاعرکے احساس و جذبات ملاحظہ ہوں:
کتنی آرزوں سے پہنچا ہوں مدینے میں
دل کی دھڑکنیں رک جائیں کاش آج سینے میں
گاہ خانۂ کعبہ گاہ روضۂ اقدس
کاش یہ مناظر پھر رنگ بھر دے جینے میں
ہے کرم شکیلؔ ان کا ان کی مہربانی ہے
میں نے بھی گزارے ہیں لمحے کچھ مدینے میں
شکیلؔ اعظمی ایک نعت میں عازمین حج سے خطاب کرتے ہوئے حاجیوں کو مبارک باد پیش کر تے ہیں۔ ارکان حج کو آداب شریعت کے لحاظ سے ادا کرنے کی دعا ئیں دیتے ہیں۔ وہ کہتے خانۂ کعبہ پر جب پہلی نظر پڑیگی توتم کانپ جاؤگے لہٰذا بنا پلکیں جھپکائے تم دعا کرنا۔ کیوں کہ جب پہلی نظر خانۂ کعبہ پر پڑتی ہے اس وقت کی گئی دعا قبول ہوتی ہے۔ اشعار ملاحظہ ہوں:
حاجیو تم کو مبارک ہو سفر طیبہ کا
رحمت حق کا رہے سر پہ تمہارے سایہ
اور جب آئے نظر جلوۂ محبوب خدا
لب پہ ہو صلّ علیٰ صلّ علیٰ صلّ علیٰ
حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کی بڑی فکرتھی۔ آپ راتوں کو اٹھ کر اپنی امت کے لیے آنسو بہاتے اور امت کی شفاعت کے لیے اللہ سے دعا فرماتے تھے۔ ماں ایک ہستی ہے جو اپنی اولاد کو سب سے زیادہ محبت کرتی ہے۔ لیکن حضور اپنی امت کو ماں سے بھی زیادہ محبت کرتے تھے۔ آج ہمیں اپنی عاقبت کی کوئی فکر نہیں۔ گناہ پہ گناہ کیے جا رہے ہیں۔ اسی واقعہ کو شکیل اعظمی نے شعر کے قالب میں ڈھا لا ہے:
بخشوانے کی خاطر اپنی پیاری امت کو
مصطفی نے رو رو کر روز و شب گزارے ہیں

ہمیں تو فکر نہیں اپنی عاقبت کی مگر
ہمارے واسطے آنسو بہا رہا ہے کوئی
ڈاکٹر شکیل اعظمی کی نعتیہ شاعری کے مجموعی مطالعہ کے بعد ہم کہ سکتے ہیں کہ ان کے کلام میں مضامین کی کثرت ہے ۔ وہ نعت کو سچے جذبۂ و عقیدت کے تحت لکھتے ہیں۔ اپنی گفتگو سید محمد اشرف صاحب کے ایک اقتباس پر ختم کرتا ہوں:
’’جذبوں کی حد تک ڈاکٹر شکیل صاحب کی شاعری کے تین زاویے ہیں: ۱۔ ممدوح سے والہانہ قلبی ربط -۲-شعار سنیت سے بھرپور لگاؤ- ۳-ملت اسلامیہ سے دردمندانہ احساسات۔ پوری شاعری میں ان تین طرز کے جذبوں کا بھرپور رچاؤ ملتا ہے جو شاعر کو شعریت کے ساتھ ساتھ سعادت کی سند بھی عطا کرتا ہے۔ (فلیپ، گل قدس)