ڈاکٹر عزیزؔ احسن کے ساتھ ایک مصاحبہ!(INTERVIEW)

ڈاکٹر عزیزؔ احسن کے ساتھ
ایک مصاحبہ!(INTERVIEW)

محمد جنید عزیزخان۔

منگل ۹؍ ربیع الاول ۱۴۳۴ھ(مطابق ۲۲؍جنوری ۲۰۱۳ء؁) کی شب گیارہ بجے METRO ONE NEWS  ٹی ۔وی۔ پر نشر ہونے والے پروگرام : ’’بزمِ شاعری‘‘ میں۔ ڈاکٹر عزیزؔ احسن صاحب نے اپنے پی۔ایچ۔ڈی کے مقالے کا تعارف بھی کروایا اورنعتیہ کلام کا ایسا انتخاب بھی پیش کیا جو ادبی قدر کاحامل کلام تھا۔ اس پروگرام میں ہونے والی گفتگو کو نعت رنگ کے قارئین کے لیے ضبطِ تحریر میں لایا گیا ہے۔ (میزبان سحر افشاں ، پروگرام منیجر شمیم جاوید )
(پس منظری آواز)کی محمدؐسے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں یہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں
میزبان افشاں سحر:…بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
خدا کے نام سے اب ابتدا ہے اسی کے نام پر ہر انتہا ہے
نوازے علم کی دولت سے سب کو یہ میری خالقِ کل سے دعا ہے
جی ناظریں: پروگرام بزمِ شاعری میں آپ کو خوش آمدید کہتی ہوں۔ربیع الاول کی خصوصی نشریات آپ دیکھ رہے ہیں میٹر و ون نیوز سے۔جی ناظرین آج جو ہمارے مہمان یہاں پر موجود ہیں ڈاکٹر عزیزؔ احسن ۔جن سے ان کے پی۔ایچ۔ڈی کے مقالے کے متعلق کچھ جانیں گے اور وہ ادبی قدر کے حامل نعتیہ کلام کا انتخاب بھی پیش فرمائیں گے۔
ڈاکٹر عزیزؔ احسن نے ابھی حال ہی میں ’’اردو نعتیہ ادب کے انتقادی سرمائے کا تحقیقی مطالعہ‘‘ کے عنوان سے اپنا مقالہ لکھا تھا جس پر انہیں جامعہ کراچی سے پی۔ایچ۔ڈی، کی سند عطا کی گئی ہے۔
میزبان:(ڈاکٹر عزیزؔ احسن سے مخاطب ہوتے ہوئے): السلام علیکم ! جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہم اپنے پروگرام کی ابتداء حمدِ باری تعالیٰ سے کرتے ہیں آج بھی ہم حمد اور اس کے بعد نعت ِ رسولِ مقبول ﷺ سننے کی سعادت حاصل کر یں گے… تو آپ سے گزارش ہے کہ آپ ہمیں حمدِ باری تعالیٰ سنائیں!
ڈاکٹر عزیزؔ احسن:(وعلیکم السلام ) آج جو کلام میں نے منتخب کیا ہے، وہ میری دانست میں ادبی قدر کا حامل کلام ہے۔ دراصل نعتیہ شاعری میں رطب و یابس بہت ہے ۔ادبی قدر کا کلام سامنے کم آتا ہے۔ میں آج وہ پیش کررہا ہوں۔
میزبان: سبحان اللہ !
ڈاکٹر عزیز احسن: حفیظ تائب صاحب نے حمد کہی اور خوب کہی! سنیئے !
کس کا نظام راہنما ہے افق افق
کس کا دوام گونج رہا ہے افق افق
شانِ جلا ل کس کی عیاں ہے جبل جبل
رنگِ جمال کس کو جما ہے افق افق
کس کے لیے نجوم بکف ہے روش روش
بابِ شہود کس کا کھلا ہے افق افق
کس کے لیے سرودِ صبا ہے چمن چمن
کس کے لیے نمودِ ضیا ہے افق افق
مکتوم کس کی موجِ کرم ہے صدف صدف
مرقوم کس کا حرفِ وفا ہے افق افق
کس کی طلب میں اہلِ محبت ہیں داغ داغ
کس کی ادا سے حشر بپا ہے افق افق
سوزاں ہے کس کی یاد میں تائب ؔ نفس نفس
فرقت میں کس کی ، شعلہ نوا ہے افق افق
ڈاکٹر عزیز احسن: آپ نے محسوس کیا کہ اس میں لفظیات ایسی ہیں کہ تکرارِ لفظی سے ایک خوبصورت صنعت بھی پیدا ہوگئی اور اس کے ساتھ ساتھ جو صوتی تاثر پیدا ہوتا ہے اس کی اپنی نغمگی ہے۔ یہ کلام کم پڑھتے ہیں لوگ، اب ایک نعت ماہرالقادری کی پڑھتا ہوں:
وارفتہ و بیچارہ درماندہ و ناکارہ
دربار میں حاضر ہے ، اک شاعرِ آوارہ
پہلے تو مری آنکھیں اشکوں سے وضو کرلیں
اتنی مجھے مہلت دے، اے حسرتِ نظارہ
چھینٹا کوئی پڑ جائے ہاں! شبنمِ رحمت کا
مدت سے دہکتا ہے، سینے میں اک انگارہ
مسجد کے ستوں کیا ہیں، انوار کے فوارے
جالی ترے روضے کی ، رحمت کا ہے گہوارہ
جو اشکِ ندامت ہے، نادار کی دولت ہے
دل کا بھی یہی فدیہ، آنکھوں کا بھی کفارہ
میزبان: واہ واہ !
ایک صاحب کی نعت میں پڑھ رہا تھا وہ مجھے بہت اچھی لگی ۔ انہوں نے ولادتِ رسول ﷺ کے حوالے سے نظم لکھی۔ اقبال راہیؔ ان کا نام ہے۔
دنیا میں جب ولادتِ ختم ِ رسل ہوئی
تاریک دائروں سے نکل آئی روشنی
کلیوں نے آنکھ کھولی ،گلستاں نے سانس لی
غنچوں کا روپ لے کے نکھر آئی زندگی
ذہنِ بشر پہ رنگ چڑھا اعتبار کا
اوڑھا دوشالہ آب و ہوا نے بہار کا
انگڑائی برگ و بار نے لی جھوم جھوم کر
عنبر فشاں نسیم اڑا لے گئی گہر
غنچے شگفتگی کی ادا پر تھے مفتخر
ہر شے چڑھی ہوئی تھی لطافت کے بام پر
چاندی بکھیر نے پہ تُلا روئے آفتاب
ضو بار ہوکے اور بڑھا حسنِ ماہتاب
مابینِ عرش و فرش کھلی نور کی کتاب
ذروں نے اپنی آنکھ سے دیکھا یہ انقلاب
موجِ صبا شفق میں نہاتی ہوئی چلی
شبنم کو ڈالیوں پہ گراتی ہوئی چلی
معیار آدمی کا بڑھایا حضور ؐ نے
پردہ حقیقتوں سے اٹھا یا حضورؐ نے
میزبان… سوال:ڈاکٹر عزیزؔ احسن صاحب آپ کا مقالہ ’’اردو نعتیہ ادب کے انتقادی سرمائے کا تحقیقی مطالعہ‘‘ جس پر آپ کوپی۔ایچ۔ڈی، کی ڈگری ملی ہے۔ اس کے بارے میں ہم چاہیں گے کہ آپ ہمارے ناظرین کو کچھ بتائیں …ما شاء اللہ آپ کو اس پر پی۔ایچ۔ڈی ،کی سند ملی ہے۔
ڈاکٹر عزیزؔ احسن: ضرور بتاؤں گا ۔مجھے بڑی خوشی ہوگی۔میرے مقالے کے آٹھ ابواب ہیں۔ آٹھ chapters  ہیں۔ …پہلے باب میں تو میں نے یہ متعین کیا ہے کہ تنقید کسے کہتے ہیں۔ تنقید کے کیا معانی ہیں اور ادبی سطح پر اس لفظ سے کیا مراد لی جاتی ہے۔ عربی میں کیا معانی ہیں، فارسی میں کیا معنی ہیں ، انگریزی میں کیا معانی ہیں اور پھر اردو والوں نے اس لفظ کو کیسے سمجھا ہے؟ اس میں مختصر کی بات کی ہے کیوں کہ پورا مقالہ تنقید پر نہیں تھا۔صرف یہ بتانا تھا کہ تنقید کیا ہے؟
دوسرا باب جو ہے اس میں یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ قرآن و سنت سے نعتیہ شاعری کے لیے ہمیں کیا رہنمائی حاصل ہوتی ہے۔
تیسرے باب میں بتایا گیا ہے کہ شعراء نے نعتیہ شاعری کے حوالے سے کیا تنقیدی شعور ظاہر کیا ہے …کلام میں…کیوں کہ ہر تخلیق کے پس منظر میں فن کار کا ایک تنقیدی شعور ہوتا ہے۔ تنقید ی شعور کے ساتھ اس کے اندر لکھنے والا لفظیات لکھتا ہے اس میں تبدیلیاں کرتا ہے اور یہ ہر اچھے شاعر کا وطیرہ ہوتا ہے۔ میں man in the street  کی بات نہیں کررہا ہوں…ہر اچھے شاعر کی بات کررہا ہوں جو لفظوں کو برتنا جانتا ہے کہ وہ کیسے لفظ لکھ رہا ہے اور ایک بار لکھنے کے بعد اس پر نظرِ ثانی کیسے کررہا ہے۔ پھر اس کا احساس کیا ہے ؟ وہ نعت کو کتنا نازک خیال کرتا ہے؟ یہ ہے میرا تیسرا باب جس میں میںنے فارسی اور اردو کے شعراء کے حوالے سے یہ بتایا کہ ان کا تنقیدی شعور ان کے اشعار میں کس طرح جھلکا ہے۔وقت نہیں ہے ، اگر موقع ملا تو کچھ اشعار نمونے کے طور پر آپ کو سناؤں گا۔ …… چوتھا باب : نعتیہ شاعری کے مجموعے جو آتے ہیں ۔بہت سارے شاعری کے مجموعے آئے ہیں دواوین آئے ہیں ۔ان دواوین یا مجموعوں پر کچھ لوگوں نے مقدمے لکھے۔دیباچے لکھے۔تقریظ لکھی۔اب پہلے تو میں نے یہ متعین کیا کہ مقدمہ کسے کہتے ہیں، دیباچہ کسے کہتے ہیں ، تقریظ کسے کہتے ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں ان تمام اصطلاحات کو گڈ مڈ کردیا گیا ہے۔ اور بقول احمد ندیم قاسمی کے کہ بھئی لکھنے والا جو چاہے لکھدے وہ اپنی تحریر کو مقدمہ کا عنوان دیدے ، دیباچہ کہدے ، تقریظ کہہ دے بات ایک ہی ہے۔ خیر اس میں کچھ طوالت سے بات ہوتی ہے تو میں اسے مقدمہ کہتا ہوں،کوئی تحریر کم طویل ہوتی ہے تو میں اسے دیباچہ سمجھتا ہوں اور خالص تحسین یا مدح سرائی ہوتی ہے تو اسے تقریظ کہتا ہوں۔
پانچواں باب … نعتیہ مجموعوں کے ساتھ ساتھ ایک قسم کی کتابیں ایسی ہیں جن میں نعتیہ انتخاب چھپے ہیں۔ جیسے میں یہاں کچھ نعتوں کا انتخاب پیش کررہا ہوں۔تو اگر یہ مدون کردیا جائے تو نعتیہ انتخاب کہلائے گا۔ تو وہ انتخاب کرتے ہوئے جن لوگوں نے بھی وہ انتخاب کیا ہے انہوں تنقیدی شعور رکھا ہے اپنے سامنے۔ ان میں اگر کسی نے مقدمہ لکھا ہے تو وہ ظاہر ہے بڑی قدر کی چیز ہوگی۔اس میں بڑے اچھے اچھے نام آتے ہیں۔ میں اس کی تفصیل میں جاؤں گا تو بہت وقت لگ جائے گا۔ …تو ان مقدموں یا دیباچوں میں، ان میں کوئی تقریظ نہیں ہے جس کا میں مفہوم بتاچکاہوں۔ ان کی ادبی ساکھ اور ان کی معروضی قدرہم نے جاننے کی کوشش کی ہے۔ کہ انہوں نے نعت کو کیا سمجھا ہے اور کس حیثیت سے اور کس کیفیت میں کس مزاج کی نعتیں انہوں نے جمع کی ہیں۔ یہ تھا میرا پانچواں باب۔
اب چھٹا باب جو ہے وہ خالص تنقید کا ہے۔ کہ ہمارے ہاں نعتیہ ادب میں تنقیدی مضامین کہاں زیادہ آئے ۔الحمدللہ! اپریل ۱۹۹۵ء میں ایک کتابی  سلسلہ نکلا ’’نعت رنگ‘‘ جو صبیح رحمانی کی ادارت میں جاری ہوا۔ آپ نے دیکھا ہوگا!…اس میں ہم نے مسلسل تنقیدی مضامین شائع کیے ہیں۔میں  اس میں مسلسل لکھ رہا ہوںلہٰذا میرے بھی بہت سارے مضامین شائع ہوچکے ہیں۔ لیکن میں آپ کو یہ بتادوں کہ مجھ پر یہ پابندی تھی کہ میں اپنی کسی سابقہ تحریر کا حوالہ یا اقتباس اپنے مقالے میں نہ دوں۔
میزبان: وجہ؟
ڈاکٹر عزیزؔ احسن: وجہ یہ تھی کہ وہ کہتے ہیں کہ مقالہ بالکل نیا ہونا چاہیے۔ آپ کی پچھلی تحریر اس میں شامل نہو۔آپ کی تو چار کتابیں موجود ہیں اگر یہ پابندی نہ لگائی گئی تو آپ ان کتابوں کا لوازمہ سب کا سب مقالے میں ڈال دیں گے۔
میزبان: اس حوالے سے وہ یہ کہہ رہے تھے کہ تازہ ہونا چاہیے۔
ڈاکٹر عزیزؔ احسن: حالانکہ بعض مقالے میں نے ایسے بھی دیکھے جن میں مقالہ نگاروں نے اپنی پچھلی تحریروں کو بھی شامل کیا ۔لیکن مجھ پر یہ پابندی تھی اور یہ صحیح بھی تھی۔ اس سے یہ ہوا کہ میں نے کچھ زیادہ محنت کی۔ ہاں یہ ضرور ہوا کہ میری پچھلی تحریروں میں جو مواد تھا اس کو میں نے از سرِ نو تحریر کیا۔ مثلاً میں کسی شعر پر بات کررہا ہوں تو شعر تو میں نے وہی لیا لیکن اس پر گفتگو نئے سرے سے کی اور کچھ نئے زاوئیے تلاش کرکے بات کی۔ …نعت رنگ کے علاوہ دیگر رسائل یا کتابی سلسلے نکلتے ہیںبابِ ششم میں ان کا بھی ذکر ہے۔
میزبان: قطع کلامی معاف ، ہمیں ایک چھوٹا سا بریک لینا ہے……………جی ناظرین عزیزاحسن صاحب ہمارے ساتھ ہیں۔ ہم ایک چھوٹا سا وقفہ لیں گے پھر وہیں سے سلسلہ جوڑیں گے جہاں سے منقطع ہوا اور کچھ نعتیہ کلام سنیں گے…………لیکن ایک چھوٹے سے بریک کے بعد۔
میزبان: جی ناظریں وقفے کے بعد ہم پھر حاضر ہیں۔ہمارے ساتھ ہیں ڈاکٹر عزیزؔ احسن۔ان کے مقالے کے حوالے سے بات ہورہی تھی۔ان کے مقالے کے نگراں ڈاکٹر ظفر اقبال صاحب کے تاثرات ہم نے ریکارڈ کیے ہیں جو ہم آپ کو دکھانے جارہے ہیں۔آیئے دیکھتے ہیں۔
ڈاکٹر ظفر اقبال: جناب یہ جو سوال ہے کہ اردو کے نعتیہ سرمائے میں اس کتاب کا کیا contribution ہے تو اس حوالے سے میرا خیال ہے کہ اگر ہم اپنے پورے نعتیہ ادب اور اس کے سرمائے کو دیکھیں اور مختلف پہلوؤں سے اس کا جائزہ لیں تو ہمارے سامنے یہ بات آتی ہے کہ تحسین، تعریف ، مدح، ستائش ، یہ سب تو ہوتا رہا۔کہیں کہیں دبی دبی آوازیں ماضی میں ہمیں یہ سنائی دیں کہ نعتیہ ادب کے کچھ اصول، کچھ نعتیہ شاعری کے قواعد بھی ہونے چا ہئیں ۔پھر اَسِّی کی دھائی میں یہ بات ذرا بآوازِ بلند سنائی دی کہ شاعری بالخصوص نعتیہ شاعری میں حفظِ مراتب ذخیرۂ الفاظ اور جو اس عہد کی مقدس شخصیات تھیں ان کے باہمی تعلقات … اس حوالے سے تخاطب کا طریقہء کار کیا ہو؟محسوسات کے حوالے سے جو رعایتِ لفظی برتی جاتی رہی ہے اس کا طریقِ کار کیا ہو؟ کیا ہمیں شرعی اور غیر شرعی معاملات کو شاعری میں لانا چاہیے یا نہیں لانا چاہیے۔یہ ساری باتیں اٹھیں ۔دیکھیئے ایک بات یہ ہے کہ جو چیز زندہ ہوتی ہے نا، سوال اسی کے بارے میں اٹھتا ہے۔جو مردہ ہوگئی وہ ہماری فراموش شدہ یادداشت کا حصہ بن جاتی ہے۔چونکہ میں نعتیہ ادب کو ایک سچی صنفِ سخن کہتا ہوں جس میں جھوٹ کی ، فریب کی ، غلط بیانی کی گنجائش نہیں اور اگر ایسا کچھ کیا گیا کہیں پر تو وہ حصہ ادب کا حصہ بننے کے بجائے ساقط المعیار قرار دیدیا گیا ، از خود۔لہٰذا اس حوالے سے جب ہم ان کو دیکھتے ہیں تو ہمیں یہ پتا چلتا ہے کہ یہ غیر چکھا ہوا ذائقہ تھا یا ان چکھا ہوا ذائقہ تھا اور متقاضی تھا یہ موضوع اس بات کا کہ اس کے اوپر بہت سوچ سمجھ کے ایک ناقدانہ اور تحقیقی نظر ڈالی جائے۔
……عزیزؔ احسن صاحب نے اپنی کتاب’’اردو نعتیہ ادب کے انتقادی سرمائے کاتحقیقی مطالعہ‘‘ میں ان موضوعات کو چھیڑہے  جن  کے  حوالے سے ماضی میں بہت سے سوالات اٹھے تھے اور ان کے تمام پس منظروں کو سمیٹ کر منطقی ، علمی اور ادبی تناظر میں ان کے جواب دیئے ہیں۔میں تویہ کہتا ہوں کہ اس کتاب کا کام تو درحقیقت اب شروع ہوگا۔اس کی افادیت تو اب شروع ہوگی۔ کیوں کہ اس میں انہوں نے خاص طور پر اس کے آخر میں کچھ بنیادی معیارات بنائے ہیں۔کچھ اصول، کچھ قواعد تشکیل دیئے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ کسی کو ان قواعد سے اختلاف ہو،لیکن ان قواعد کے مبنی بر اصول اور مبنی پر فطرت و تحقیق ہونے میں کسی کو کلام نہیں ہوسکتا۔جو شخص بھی نعتیہ شاعری سے دلچسپی یا تعلقِ خاطر رکھتا ہے خواہ وہ تخلیق کار ہے، نقاد ہے، فنکار ہے یا جو بھی ہے،ا س کے لیے ضروری ہے کہ وہ  اس کتاب کو  پڑھے ۔اور میرا خیال ہے کہ اس میں جتنے مبسوط طریقے سے تمام معاملات اور موضوعات کااحاطہ کیا گیا ہے آئندہ پندرہ بیس سال تک کوئی  شخص اس میں اضافہ نہیںکرسکے گااور پندرہ بیس سال کے بعد بھی اگر کوئی شخص اس پہ کچھ لکھنا چاہے گا تو اس کو کم از کم تیس چالیس سال کا مطالعہ اپنے پس منظر میں رکھنا ہوگا تب کہیں جاکے اس پہ اضافہ کرنا ممکن ہوگا!
میزبان: جی ناظرین، ڈاکٹر ظفر اقبال کے تاثرات جو ہم نے ریکارڈ کیے، آپ نے جان لیے ، عزیزؔ احسن صاحب  اس وقت ہمارے درمیان موجود بھی ہیں…سلسلہ ، ناظریں جہاں سے منقطع ہوا تھا وہیں سے جوڑتے ہیں…چلتے ہیں ڈاکٹر عزیزؔ احسن کی طرف…
ڈاکٹر عزیزؔ احسن: جی… میں نے یہ عرض کیا تھا کہ چھٹا باب جو ہے میرے مقالے کا وہ ان رسائل و جرائد کے تذکرے پر مبنی ہے جن میں کسی نہ کسی درجے میں تنقیدی مضامین شائع کئے گئے ہیں۔ اس میں نعت رنگ کا حصہ زیادہ تھا تو ظاہر ہے اس کا ذکر بھی قدرے طویل ہے۔
…پھر جناب ساتواں باب جو ہے وہ ان کتابوں کا جائزہ ہے جو واقعتا تنقیدی حوالے ہی سے لکھی گئیں۔ان میں چار کتابیں میری تھیں لیکن میں نے صرف ان کا ذکر کیا ہے ، لیکن باقی کتابیں بہت سارے لوگوں کی تھیں ان پر میں نے کلام کیا ان کے اقتباسات دیئے ہیں۔بتایا ہے کہ ان کا نہج کیا ہے اور یہ طے کرنے کی کوشش کی کہ کس شخص نے تنقید کے کس دبستان سے استفادہ کیا ہے یا کس کا رجحان کس دبستان کی طرف ہے، تنقید کے حوالے سے۔ اور یہ نعتیہ دنیا میں پہلی بار ہوا ہے۔
اس کے بعد، آٹھواںجو باب ہے جس کاحوالہ ہمارے استادِ محترم نگرانِ مقالہ میریٹوریس پروفیسر جو ڈین فیکلٹی آف آرٹس بھی ہیں، جناب ڈاکٹر ظفر اقبال…وہ دے رہے تھے کہ میں نے آخری باب میں اصول متعین کیے ہیں کہ بھئی نعت کی تنقید کیسی ہونی چاہیے اور نعت کی تخلیق میں خیالات کے اظہار میں کیا خوبی ہونی چاہیے…………یہ تو بڑا طویل موضوع ہے۔
میزبان:بالکل …ماشا ء اللہ آپ نے کافی تفصیل کے ساتھ جواب دیا۔…اب چلیں گے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ کی جانب!
ڈاکٹر عزیزؔ احسن: میں آپ کو ایک نعت سناتا ہوں۔میں نے آپ سے عرض کیا تھا کہ آج میں ایسی نعتیں پیش کروںگا جن کی کوئی ادبی worth ہوگی…آپ نے نام سنا ہوگا جرمن شاعر گوئٹے کا …گوئٹے نے ایک نعت لکھی تھی، جرمنی زبان میں۔اس کا ترجمہ ہمارے ہاں فارسی میں پہلی بار علامہ اقبال نے کیا جو ان کی کتاب ’’پیام مشرق‘‘ میں چھپا۔ڈاکٹر شان الحق حقی صاحب نے اس کا ترجمہ اردو میں کیا اور وہ انہوں نے مجھے اپنے ہاتھ سے لکھ کر دیا تھا جو میں نے اپنے انتخابِ نعت ’’جواہرالنعت‘‘میں شامل کیا تھا ۔وہ انتخاب ۱۹۸۱ء میں شائع کیا گیا تھا۔تو میں وہ پیش کرتا ہوں…دیکھیے ایک بڑا شاعر گوئٹے کیسے لکھتا ہے۔کہتا ہے:
وہ پاکیزہ چشمہ جو اوجِ فلک سے چٹانوں پہ اترا
سحابوں سے اوپر بلند آسمانوں پہ جولاں ملائک
کی چشمِ نگہداشت کے سائے سائے
وہ کتنے ہی صد رنگ انگھڑخزف ریزے…آغوشِ شفقت میں اپنی سمیٹے بہت سے سسکتے ہوئے، رینگتے، سست ، کم مایہ سوتوں کو چونکا تا، للکارتا، ساتھ لیتا ہوا، خوش خراماں چلا
بے نمو وادیاں لہلہانے لگیں…پھول ہی پھول چاروں طرف کھل اٹھے جس طرف اس کا رخ پھر گیا …اس کے فیضِ قدم سے بہار آگئی
یہ چٹانوں کے پہلو کی چھوٹی سی وادی ہی کچھ اس کی منزل نہ تھی
وہ تو بڑھتا گیا ……کوئی وادی، کوئی دشت، کوئی چمن، گلستاں ، مرغزار
اس کے آگے ابھی اور صحرا بھی تھے …خشک نہریں بھی تھیں ، اترے دریا بھی تھے…سیلِ جاں بخش کے اس کے سب منتظر……جُوق در جُوق پاس اس کے آنے لگے…شور آمد کا اس کی اٹھانے لگے……راہبر! …ساتھ ہم کو بھی لیتے چلو…کب سے تھیں پستیاں ہم کو جکڑے ہوئے راہ گھیرے ہوئے پاؤں پکڑے ہوئے …یاد آتا ہے مسکن پرانا ہمیں
آسمانوں کی جانب ہے جانا ہمیں…ورنہ یونہی نشیبوں میں دھنس جائیں گے………جال میں ان زمینوں کے پھنس جائیں گے
اپنے خالق کی آواز کانوں میں ہے……………
…(دیکھیے! گوئٹے کہہ رہا ہے ……خالق کی آواز ………اَلست ُ بِرَبِّکُم)
اپنی منزل وہیں آسمانوں میں ہے
گرد آلود ہیں پاک کردے ہمیں ……آ،ہم آغوشِ افلاک کردے ہمیں
وہ رواں ہے روا ں ہے ، رواں اب بھی ہے…ساتھ ساتھ اس کے اک کارواں اب بھی ہے…شہر آتے رہے ، شہر جاتے رہے
اس کے دم سے سبھی فیض پاتے رہے…اس کے ہر موڑ پر ایک دنیا نئی
ہر قدم پر طلوع، ایک فردا نئی …قصر ابھرا کیے، خواب ہوتے گئے
کتنے منظر تہہِ آب ہوتے گئے…شاہ اور شاہیاں خواب ہوتی گئیں
عظمتیں کتنی نایاب ہوتی گئیں …اس کی رحمت کا دھارا ہے اب بھی رواں از زمیں تا فلک از فلک تا زمیں …از ازل تا ابد جاوداں، بیکراں
دشت و در، گلشن و گل سے بے واسطہ…فیضیاب اس سے کُل
اور خود کُل سے بے واسطہ
(نغمہء محمدی ong of Muhammad S جرمن شاعر گوئٹے …ترجمہ ڈاکٹر شان الحق حقی)
میزبان: اچھا آپ نے نعتیہ شاعری کو تنقید کے لیے کیوں منتخب کیا ، اس کی کیا وجوہات تھیں؟
ڈاکٹر عزیزؔ احسن: ہاں!…کچھ باتیں تو ہمارے استادِ محترم (ڈاکٹر ظفر اقبال)نے کہہ دی ہیں۔کچھ میں عرض کرتا ہوں۔دیکھیے جب بھی گفتگو کرتے ہیںتو بچہ بچپن سے یہ سیکھتا ہے کہ ماں سے گفتگو کیسے کرنی ہے، باپ سے کیسے کرنی ہے، بہن اور بھائی سے کیسے کرنی ہے اور محلے کے لڑکوں سے کیسے کرنی ہے، یا لڑکیوں سے کیسے کرنی ہے۔
میزبان: اس کا لب و لہجہ کیسا ہونا چاہیے۔لفظ کیسے ہونے چاہئیں۔
ڈاکٹر عزیزؔ احسن: جی ہاں…یہ تربیت کا حصہ ہوتا ہے جو غیر محسوس طور پر ہوتی رہتی ہے۔ اسی طریقے سے دیکھا جاتا ہے کہ مختلف طبقات کے الفاظ مختلف ہوتے ہیں…اور الفاظ کی پاور بہت ہوتی ہے۔تخلیقی ادب کو literature of power  کہتے ہیں۔ اور literature of power اس لیے کہتے ہیں کہ وہ اپنی گرفت میں لے لیتا ہے ۔تاثر اس کا بہت زیادہ ہوتا ہے۔مؤثر بہت ہوتا ہے۔آپ اگر کوئی کہانی پڑھیں یا جیسے میں نے ابھی یہ نظم پڑھی تو میرے پڑھنے کا انداز چاہے جیسا بھی تھا لیکن نظم کی اپنی کیفیت تھی جس نے اثر کیااور منہ سے واہ نکلی۔تو اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ نعتیہ شاعری، اگر شاعری ہے تو بنیادی طور پہ جیسا کہ ٹی۔ایس ۔ایلیٹ نے کہا تھا کہ ’’شاعری کو شاعری کے طور پر ہی دیکھنا ہے اور کسی چیز کی حیثت سے نہیںدیکھنا اسے۔ تو شاعری کو شاعری کی حیثیت سے جب دیکھیں گے تو شاعری کے norms سامنے آئیں گے۔ اصول سامنے آئیں گے۔ زبان کے اصول آئیں گے۔ عروض کے اصول آئیں گے ، اگر وہ پابند شاعری ہے تو…پھر اس میں الفاظ کیسے استعمال ہونے تھے ، موضوع کے اعتبار سے…اور کیسے ہوئے ہیں یہ دیکھنا پڑے گا!…………تو نعتیہ شاعری جو ہے، اس پر تنقید کی اس لیے ضرورت پیش آئی کہ نعت میں ہر آدمی جذباتی طور پہ اپنا اظہار تو کررہا ہے…لیکن لفظوں کا چناؤ بعض اوقات بہت زیادہ غلط ہوجاتا ہے۔تو اس لیے اس پر تنقید کی ضرورت پیش آئی۔اب دیکھیے کہ اگرشاعر کوئی لفظ ایسا استعمال کرتاہے جس کے معانی اسے معلوم نہیں ہیں اور اس لفظ کے معانی ذم کے نکل رہے ہیں…برے نکل رہے ہیں………تو نبی ﷺ سے ایک برائی منسوب ہوگی اچھائی منسوب نہیں ہوگی!شاعر اپنے طور پر سمجھ رہا ہے کہ میں نے تعریف کی ہے لیکن وہ مدح کے بجائے قدح ہوگی یعنی وہ تعریف کے بجائے ذم ہوجائے گا۔تو اس کو بتانا ہے………………دوسری بات ………میں آپ کو بتاؤں سگریٹ کی ڈبیا پہ لکھا ہے کہ یہ مضرِصحت ہے تو بھئی کلام توبہت زیادہ مضر صحت ہوتا ہے…اگر غلط ہے تو۔ اس کے اثرات تو صدیوں چلتے ہیں۔اگر ڈھولک کی تھاپ پہ قوال  الٹی سیدھی قوالیاں گا رہا ہے …ہوس تھی دید کی معراج کا بہانہ تھا…یہ پڑھنے والا اور پڑھوانے والا ، نشر کرنے والا کہاں پہنچا ہے؟…کس مقام پر ہے وہ؟…ہوس تھی دید کی معراج کا بہانہ تھا …یہ کہنے کی باتیں ہیں۔یہ تو میں نے ایک اشارہ کیا …اور بھی میرے پاس مواد ہے اگر میں صرف اسی موضوع پر گفتگو کروں تو یہ پروگرام کافی نہیں ہوگا …چار چھ پروگرام اور کرنے ہوں گے۔
میزبان:جی چار چھ پروگرام ہوجائیں…آپ نے بہت اچھا اور مختصر جواب دیا …جی ناظرین ایک چھوٹا سا وقفہ لیں گے اور وقفے کے بعد پھر آپ کی خدمت میں دوبارہ حاضر ہوں گے!
میزبان:(وقفے کے بعد)جی ناظرین…ربیع الاول کی خصوصی نشریات آپ دیکھ رہے ہیں میٹر ون نیوز سے…پروگرام آپ دیکھ رہے ہیں بزمِ شاعری اور مجھے کہتے ہیں افشاں سحر اور ہمارے درمیان موجود ہیں ڈاکٹر عزیز احسن جن سے گفتگو ابھی چل رہی ہے…ہم چلیں گے مزید نعتِ رسولِ مقبولﷺ سننے کی سعادت حاصل کریں گے…جی!
ڈاکٹر عزیز احسن:جو باتیں میں نے کی ہیں ۔نعت کی تنقید کے حوالے سے …وہ شاعرانہ سطح پر بھی بیان ہوئی ہیں تو میں ایک فارسی کی نعت اس کے ترجمے کے ساتھ آپ کو سناتا ہوں۔چھوٹی سی ہے………میرزا مظہر جانِ جاناں رحمۃ اللہ علیہ ۱۱۹۵ھ؁ میں شہید کردیئے گئے۔اس زمانے کی بات ہے یہ۔۱۷۸۰ عیسوی سن تھا جب ان کی شہادت ہوئی ہے………فرماتے ہیں:
خدا در انتظارِ حمدِ ما نیست ٭محمد چشم برراہِ ثنا نیست
اللہ تعالیٰ ہماری حمد کے انتظار میں نہیں بیٹھا ہوا ہے…اور محمد ﷺ کو بھی ہماری نعتوں کی ضرورت نہیں ہے……وہ کوئی انتظار نہیں کررہے ہیں کہ ہم نعتیں کہیں گے تو ان کی عظمت ہوگی………ان کی عظمت تو قائم ہے،
میزبان: بلا شبہ!
خدا مدح آفرینِ مصطفیؐ بس٭محمد حامدِ حمدِ خدا بس
اللہ تعالیٰ کافی ہے نبی ﷺ کی مدح کرنے کے لیے ………آپ ﷺ کی تعریف کرنے کے لیے………اور محمد ﷺ اس بات کے لیے کافی ہیں کہ اللہ کی حمد کریں۔تمہاری ضرورت نہیں ہے۔
مناجاتے اگر باید بیاں کرد٭بہ بیتے ہم قناعت می تواں کرد
اگر تم چاہتے ہو کہ کوئی مناجات ہو………کوئی بات ہو………کوئی دعا کرو………تو پھر تمہیں ایک ہی شعر پر قناعت کرلینی چاہیے………اب دیکھیں یہ تنقیدی شعور بات کررہا ہے!
میزبان: جی!
ڈاکٹر عزیزاحسن:کیا کہتے ہیں……………محمد از تو می خواہم خدا را٭الٰہی از تو حبِ مصطفی ؐرا
تمہیں اس شعرپر قناعت کرنی چاہیے……………کہ تم کہو رسولِ اکرم ﷺ سے درخواست کرو کہ اے رسولِ اکرم ﷺ ، اے آقاﷺ!مجھے آپ کے توسط سے اللہ تک پہنچنا ہے……
میزبان: سبحان اللہ!
ڈاکٹر عزیز احسن:اور پھر اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کروکہ اے الہ العالمین میرے دل میں محبتِ رسول ﷺ بھردے!
میزبان: کیا کہنے!
ڈاکٹر عزیز احسن:دگر لب وا مکن مظہر فضولیست٭سخن از حاجت افزوں تر فضولیست
اس سے زیادہ بات کرنا مظہر فضول ہے…اپنی حاجت سے زیادہ بات کرنا اچھا نہیں ہوتا۔
میزبان: سبحان اللہ بہت خوب صورت!………… اچھا! عوامی سطح پر تنقید کا مطلب تنقیص بھی لیا جاتا ہے اور نعت جیسے مقدس موضوع پر نکتہ چینی یا تنقیص کرنا……آپ کیا سمجھتے ہیں کہ صحیح ہے کہ نہیں………آپ کا کیا خیال ہے اس بارے میں؟
ڈاکٹر عزیزؔ احسن:میراتو بنیادی خیال ہی یہ ہے ………آپ دیکھیں کہ نعت جیسی مقدس صنف ………لکھنے والا کون ہے؟………آج کا انسان …ضروری نہیں کہ اس کا دینی مطالعہ بھی بہت گہرا ہواور لفظوں کی پرکھ بھی اس کو آتی ہو!…تو ہم اظہار پر تنقید کرتے ہیں نعت پر نہیں کرتے ہیں ………جس طریقے سے ان لوگوں نے جن کے سامنے شروع شروع میں حضور ﷺ کی احادیث آئیں اور آتی چلی گئیں۔لاکھوں احادیث آئیں……تو انہوں سے سوچا کہ کہیں ایسا تو نہیں کسی شخص نے اپنی حدیثِ نفس کو حضورِ اکرم ﷺ سے منسوب کردیا ہو!……تو انہوں نے لاکھوں احادیث میں سے چند ہزار احادیث رکھیں ………بقیہ احادیث کو موضوع قرار دے کر رد کردیا۔…………تو جب نبی ﷺؑ کی کہی ہوئی باتیں……نبیﷺ سے منسوب باتیں تنقید سے نہیں بچ سکیں تونعت کیوں بچ جائے بھئی؟
میزبان: بالکل …ایک باریک سا point ہے جس کو آپ نے بتایا ہے کوئی غلط خیال بھی نبیﷺ سے منسوب ہوسکتا ہے!
ڈاکٹر عزیزؔ احسن: جی دیکھیے حدیث میں تو حضورِ اکرم ﷺ سے براہِ راست منسوب کرکے کچھ الفاظ آپ تک پہنچ رہے ہیں۔تو ان الفاظ کی پرکھ کے لیے ہمارے ہاں ایک علم ، علم الرجال وجود میں آیا!……کہ لوگ کیسے تھے جوبنی ﷺ سے منسوب کرکے بات کررہے تھے جن لوگوں نے نبیﷺ سے باتیں منسوب کی ہیں وہ چاہے دینی حوالے سے ہیں یا کسی کی فضیلت کے حوالے سے ہیں یا کسی کے مناقب کے حوالے سے یا کسی اصول کے حوالے سے ہیں ……………ان کو پرکھا اور پرکھنے کے بعد لاکھوں احادیث میں سے چند ہزاراحادیث کو مستند قرار دیا……تو ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ نعت گو شاعر تو اس شعور کا آدمی بھی نہیںہے ۔وہ تو حضورِ اکرم ﷺ کے دور سے بہت دور آگیا ہے………پھر سوال یہ ہے کہ وہ نعت کیا کہہ رہا ہے؟……آج کل ماشاء اللہ ، میں کسی کو برا نہیں کہتا سب اپنے اپنے طور پر  اچھا کہہ رہے ہیں ……محبتوں کا اظہار کررہے ہیں لیکن …نعت خواں کا مقصد زیادہ تر کمرشیل ہوگیا ہے……وہ لوگوں کے جذبات ابھارنے کے لیے ایسی نعتیں پڑھتا ہے جو بہت سطحی ہوتی ہیں……جن میں مراتب کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا………بس جو اس کے خیال میں آیا وہ اس نے پڑھ دیا جو قوال کے خیال میں آیا وہ اس نے گا دیا۔
میزبان: نعت کے تقدس کا خیال نہیں رکھا جارہا!
ڈاکٹر عزیزؔ احسن: جی…………اب کچھ نعت خواں تو ایسے ہیں جیسے میں صبیح رحمانی کا نام لیتا ہوں اور فخر سے لیتا ہوں وہ ما شاء اللہ شاعر بھی ہیں اور نعت خواں بھی ہیں تو وہ شعور کے ساتھ نعت کہہ بھی رہے ہیں پڑھ بھی رہے ہیں اور ان کی نعتیں پڑھی بھی جارہی ہیں اور ادبی سطح پر پسند بھی کی جارہیں ہیں………تو ایسے اور بھی ہوں گے………مثلاً اعظم چشتی تھے!…وہ شاعر بھی تھے اور نعت خواں بھی تھے…ان کا ایک شعور تھا………بہزاد لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ تھے۔وہ شاعر تھے اور نعت بھی پڑھتے تھے۔مظفر وارثی ما شاء اللہ اچھی آواز سے نعت پڑھتے تھے اور شاعر بھی تھے………تو یہ جو نعتیہ شاعری سامنے آئی اس میں ایک ادبی سطح بھی آئی اور ایک تنقیدی شعور کے ساتھ نعتیہ تخلیقات بھی سامنے آئیں۔ان کی نعتیہ شاعری پر بھی کہیں کہیں لوگوں نے بات کی ہے کہ ان سے بھی غلطیاں ہوئی ہیں۔تو میں یہ کہتا ہوں کہ انسان جب لکھ رہا ہوتا ہے تو وہ سو فی صد صحیح نہیں ہوتا۔
میزبان: صحیح نہیں ہوتا ……کبھی کبھی غلط بھی ہوتا ہے۔
ڈاکٹر عزیزؔ احسن: ………تو یہ کہنا کہ ہم نعت کی تنقیص کررہے ہیں۔ہم تنقیص نہیں کررہے ہیں۔ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ اظہار میں شائستگی ہونی چاہیے ، ادبیت ہونی چاہیے اور اظہار میں جو خیال آیا ہے وہ قرآن و سنت سے متصادم نہیں ہونا چاہیے!
میزبان: بلا شبہ!…بہت خوبصورت آپ نے اس کا جواب دیا اور جو آپ نے point  ہمیں نوٹ کرائے وہ نئے لکھنے والوں کے لیے رہنما اصول ہیں۔نئے لکھنے والوں کو چاہیے کہ ڈاکٹر عزیزاحسن نے جو بتایا اس پر وہ خصوصی دھیان دیں تب ہی وہ نعت جیسے sensitive  موضوع پر طبع آزمائی کرسکیںگے۔
میزبان: چلیں گے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ کی طرف۔
ڈاکٹر عزیز احسن:جی ہاں:عبدالعزیز خالد  ایک شاعر تھے۔ جن کا حال ہی میں انتقال ہوا ہے۔وہ کئی زبانوں میں شاعری کرتے تھے۔عربی، فارسی، سنسکرت، ہندی، اردو، سب شامل کرلیتے تھے پنجابی، سندھی ۔سب شامل کر لیتے تھے…………لیکن کہیں کہیں وہ سادگی بھی اختیار کرتے تھے۔میں ان کی ایک سادہ نظم لے کے آیا ہوں!
درِ یتیمِ مکہ………وہ لال آمنہ کا ……طائف کا آبلہ پا
خلوت نشیں حرا کا…روزہ ہے ڈھال جس کی…محرم وہ ھل اتیٰ کا
فاقے ہیں جس کا توشہ …سرور، وہ دو سرا کا …وہ رہنما و راہی
ہر جادۂ وفا کا …وہ سربراہ و سالک…ہر مسلکِ رِضا کا…وہ ساقی و معاشر…ہر مشربِ صفا کا …فیضان کا جو سوتا…سر چشمہ ہے عطا کا
منجملہ ٔ مساکیں…مالک خلا ملا کا…
عرشِ بریں کا زائر
میزبان: سبحان اللہ!
ڈاکٹر عزیزؔ احسن:وہ ہم زباں خدا کا…عمامہ جس کے سر پر …مازاغ ما طغیٰ کا …وہ شاہبازِ وحدت
شاہ جِہَا دو ہجرت…جس خوش لقا کا اسوہ…جس خوش ادا کی سنت
بیکس کی دستگیری…مظلوم کی امانت …معذور کی کفالت…محروم کی وکالت…تاحدِ ظرف و وسعت……خلقِ خدا کی خدمت
بہبودِ نوعِ انساں ……فوزوفلاحِ امت……وہ پیکرِ صداقت جس کا عَلم عدالت……انصاف کا وہ داعی……پیغمبرِ اخوت …کی جس نے آشکارا …انسانیت کی عظمت……دیدارجس کا مژدہ …گلزار جس کا طلعت
جس کا کلام مرہم……جس کا بیاں بشارت
میزبان: کیا بات ہے!!! سبحان اللہ!
…سلطانِ علم و عرفاں…خاقانِ حرف و حکمت…سالارِ عشق و مستی
سردارِ عزم و ہمت…کہتی ہے ساری خلقت…جس کو رسولِ رحمت
امرت بنائے بِس کو ……(دیکھیے یہاں ہندی آگئی…زہر کو بھی تریاق بنائے)
کندن بنائے مس کو………(مس کہتے ہیں تانبے کو……یعنی مِس کو بھی خالص سونا بنادے)
یزداں پکارے جس کو …………یا ایھالرسولُ……یا ایھا النبیُ!
اپنا پکاروں خالدؔ…اس کے سوا میں کس کو
(عبدالعزیز خالدؔ، جواہرالنعت، ص۴۸)
میزبان: سبحان اللہ ! سبحان اللہ! بہت خوبصورت ………بہت سادی سی آپ نے یہ نظم انتخاب کی اور بہت خوبصورت بھی!
میزبان: duration ہمارے پاس بہت کم رہ گیا ہے تو عزیزؔ احسن صاحب ! ہم چاہیں گے کہ مزید کچھ نعتیں پیش کردیں!
ڈاکٹر عزیزؔ احسن: میں عرض کرتا ہوں جناب……میں تو آج اسی خیال میں تھا ………دیکھیے ایک شاعر تھا وہ مجھے بہت ہی haunt  کرتا ہے بہت پسند ہے۔رحمٰن کیانی……رحمٰن کیانی کی آواز نعتیہ شاعری میں منفرد آوازتھی…آج تک ایسا کوئی شاعر میر ی نظر سے نہیں گزرا!!!آئندہ کبھی پیدا ہوجائے تو دوسری بات ہے
میزبان: اچھا!!!
ڈاکٹر عزیزؔ احسن: اس کی وجہ کیا ہے؟………اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے رزمیہ شاعری کی …وہ سپاہی تھا اس نے نعت میں بھی رزمیہ شاعری کی……اس کا لکھا ہوا ایک مسدس پیش کرتا ہوں
لوگو سنو! جناب رسالت مآب میں
شانِ رسولِؐصاحبِ سیف و کتاب میں
ماحی لقب ،نبیِؐ ملاحم کے باب میں
کرتا ہوں فکرِ مدح تو جوشِ خطاب میں
مصرع زباں پہ آتا ہے زورِ کلام سے
تلوار کی طرح سے نکل کر نیام سے
نعتِ رسولؐ کا یہ طریقہ عجب نہیں
سمجھیں عوام داخلِ حدِ ادب نہیں
لیکن یہ طرزِ خاص مرا بے سبب نہیں
شیوہ سپاہیوں کا نوائے طرب نہیں
رائج ہزار ڈھنگ ہوں ذکرِ حبیبؐ کے
شاہیں سے مانگئے نہ چلن عندلیب کے
مانا حبیبِ خالقِ اکبر رسولؐ کو
خیرالوریٰ و شافعِ محشر رسولؐ کو
عین النعیمؐ، ساقیٔ کوثر رسولؐ کو
شمع و چراغِ مسجد و منبر رسولؐ کو
لیکن جو ذات مدحِ بشر سے بلند ہے
ہم سے یہ پوچھئے کہ ہمیں کیوں پسند ہے؟
جب بھی سپاہیوں سے پیمبرؐ کو پوچھئے
خندق کا ذکر کیجیے، خیبر کو پوچھئے
بدرواحد کے قائدِ لشکر کو پوچھئے
یا غزوۂ تبوک کے سرورؐ کو پوچھئے
ہم کو حنین و مکہ و موتہ بھی یاد ہیں
ہم امتیٔ بانیٔ رسمِ جہاد ہیں
رسمِ جہاد حق کی اقامت کے واسطے
کمزور و ناتواں کی حمایت کے واسطے
انصاف امن اور عدالت کے واسطے
خیرالممات مرگِ شہادت کے واسطے
لڑتے ہیں جس کے شوق میں ہم جھوم جھوم کر
پیتے ہیں جامِ مرگ کو بھی چوم چوم کر
لاکھوں درود ایسے پیمبرؐ کے نام پر
جو حرفِ لاتخف سے بناتا ہوا نڈر
اک جاوداں حیات کی بھی دے گیا خبر
یعنی خدا کی راہ میں کٹ جائے سر اگر
ہم کو یقین ہے کبھی مرتے نہیں ہیں ہم
اوراس لیے کسی سے بھی ڈرتے نہیں ہیں ہم
توپ و تفنگ و دشنۂ و خنجر صلیب و دار
ڈرتے نہیں کسی سے محمدؐ کے جاں نثار
ماں ہے ہماری اُمِّ عمارہؓ سی ذی وقار
ہم ہیں ابو دُجانہ ؓ و طلحہؓ کی یادگار
ہاں مفتی و فقیہ نہیں مان لیتے ہیں
ناموسِ مصطفیؐ پہ مگر جان دیتے ہیں
میزبان:سبحان اللہ …سبحان اللہ! …سبحان اللہ!………اچھا نعتیہ شاعری کے تنقیدی مطالعے میں آپ کو کوئی ایسی شاعری بھی نظر آئی جس میں غیر معیاری شواہد ملتے ہوں؟
ڈاکٹر عزیزؔ احسن: اگر ایسی شاعری سامنے نہیں آتی تو تنقید کا اصول بنانے کی ضرورت ہی کیوں پڑتی!………ایسی شاعری آئی……… میں پانچویں میں پڑھتا تھا ……
میزبان: ہم چاہیں گے کہ اس کا اختصار سے جواب دیجے گاکیوں کہ ہم اس کے بعد پھر آپ سے نعت سنیں گے پھر آپ سے اجازت لیں گے!
ڈاکٹر عزیزؔ احسن:جب میں پانچوں میں پڑھتا تھا تو اسکول میں ایک لڑکے نے نعت پڑھی تھی ……اس پر اسے انعام ملا تھا……………اس نے ایک شعر پڑھا
محمدؐعرش پر بیٹھے ہیں چپ خالق یہ کہتا ہے٭تمہارا گھر ہے اپنے گھر میں شرمایا نہیں کرتے…………وہ نعت مجھے  بڑی پسند آئی اور میں نے لکھ لی اور میں بھی  وہ نعت
 پڑھنے لگا……ایک مرتبہ ……جب میں انٹر میں آیا تو میں نے اپنے استادپروفیسر  وسیم فاضلی مرحوم کے سامنے یہ شعر پڑھ دیا ……محمدؐ عرش پر بیٹھے ہیں چپ………فرمانے لگے یہ کیا پڑھ رہے ہو تم؟……یہ توحضور ﷺ کی توہین ہے………اللہ کی بھی توہین ہے………یہ طرزِ تخاطب کیسا ہے؟………اب میرے ذہن میں بات آئی کہ ……نعت میں بھی اس طرح سوچا جاسکتا ہے؟
میزبان: یعنی تنقید کا پہلو نکل سکتا ہے۔
ڈاکٹر عزیزؔ احسن: اب دیکھیے کہ اس وقت کے جو اساتذہ تھے انہوں اس نعت پر عزیزالٰہی کو پہلا انعام دیا تھا ۔چار نمبر لیاقت آباد(کراچی) کی بات کررہاہوں…تو،ہم تو اس نعت کو ایک معیاری نعت سمجھ رہے تھے نا؟………ہمارے وہم و خیال میں بھی ذم کا پہلو نہ تھا!………ہمارے استاد اللہ جنت نصیب کرے!انہوں نے یہ بتایا……تو اس وقت سے میرا ذہن یہ سوچنے لگا کہ نعت کو کیسا ہونا چاہیے؟………اور الحمدللہ! ایک شعر تو پیش کردیا اور بھی بہت سارے شعر ہیں لیکن آپ کے پاس اتنا وقت نہیں ہوگا اس لیے بس اسی شعر سے معیار کا اندازہ لگا لیجیے۔
میزبان: آپ نے یہ بڑی اہم بات  کی کم عمر ی ہی میں  آپ کو سمجھ آگئی کہ تنقید ی پہلو اس طرح بھی نکل سکتا ہے……یہ بڑی خوبصورت بات کی اور اس پر سوچنے کے کافی مواقع آپ کو مل سکے کہ نعت میں بھی توبہ نعوذ باللہ کوئی گستاخانہ پہلو نکل سکتا ہے۔چنانچہ ایسے الفاظ استعمال کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے
میزبان: duration  ہمارے پاس بہت کم رہ گیا ہے۔ایک نعت سنیں گے آپ سے ۔
ڈاکٹر عزیزؔ احسن: ایک نعت میں شاہ حسن عطا مرحوم کی سنارہاہوں۔مرحوم میرے کہنے سے نعتیں لکھنے لگے تھے۔اس کی تفصیل بعد میں کسی وقت بتاؤں گا۔
نہیں کہ تجھ کو بشر ہی سلام کرتے ہیں
شجر حجر بھی ترا احترام کرتے ہیں
اِسی سے گرمیء محفل ہے آج بھی قائم
کہ تیرا ذکر جہاں میں مدام کرتے ہیں
وہ ضبطِ نفس وہ سرمستیء پیامِ الست
ترے حضور فرشتے قیام کرتے ہیں
تری طلب میں جو رہتے ہیں رہ نورد یہاں
وہی تو سارے زمانے میں نام کرتے ہیں
مصافِ زیست میں جاں دادگانِ عشق ترے
ہر ایک آفتِ دوراں کو رام کرتے ہیں
ترا یقیں ہے فزوں تر مہ و ثریا سے
کہ اس کے نور سے برپا نظام کرتے ہیں
رہِ جنوں کی طلب میں بھی جاں نثار چلیں
رہ خرد کا جو یہ اہتمام کرتے ہیں
ملی ہے جن کو محبت تری زمانے میں
خموش کارِ امم وہ غلام کرتے ہیں
اس کے ایک ایک لفظ میں اتنی باتیں ہیں کہ اگر میں تشریح کرنے لگوں تو بس عمر گزر جائے۔
تری قیادتِ عظمیٰ ہوئی ابد پیما
کہ تجھ کو سارے پیمبر امام کرتے ہیں
تری زباں کے توسط جو مانتے ہیں کتاب
وہ کیوں حدیث میں تیری کلام کرتے ہیں
(جو حدیث نہیں مانتے یہ ان کے لیے بہت بڑی بات ہے۔حضور ﷺ ہی نے تو یہ بتایا ہے کہ یہ قرآن ہے…تو یہ حدیث تو ہوگئی نا! حدیث پہلے ہوئی قرآن بعد میں آیا):
جو مسحتق تھے عقوبت کے ہوں وہ خلد نشیں
نگہ کرم کی شہِ ذی مقام کرتے ہیں
سکھائے تونے جو پیکار و صلح کے آئیں
جہاں کی رہبری تیرے غلام کرتے ہیں
ترا مقام ہے اب تک نظر سے پوشیدہ
(حضور کا مقام اب تک نظر سے پوشیدہ ہے)
اگرچہ ذکر ترا خاص وعام کرتے ہیں
شاہ حسن عطا (جواہرالنعت ، ص ۴۱)
میزبان: سبحان اللہ ، سبحان اللہ! جی duration  جو ہے ہمارا وہ اپنے اختتامی مراحل کی طرف بڑی تیزی سے بڑھا اور ختم ہوگیا۔ آپ کا بہت بہت شکریہ!کہ آپ اس بزم میں تشریف لائے اتنا وقت نکال کر یہاں۔
ڈاکٹر عزیزؔ احسن: میں آپ لوگوں کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے مجھے موقع دیا کچھ باتیں کرنے کا کیوں کہ بقول حالی ؎
کوئی محرم نہیں ملتا جہاں میں
مجھے کہنا ہے کچھ اپنی زبان میں
تو شمیم جاوید صاحب محرم بن گئے…آپ محرم بن گئیں…میٹرو T.V. والے محرم بن گئے…انہوں نے میری بات سنی!
میزبان افشاں سحر:جی ناظرین۔یہ تھا ہمارا آج کا پروگرام۔ کل ان شا ء اللہ زندگی رہی تو آپ سے ضرور ہوگی ملاقات۔اپنا رکھیے گا بہت خیال…اللہ نگہبان!!!
{٭}