’’کاروانِ نعت کے حدی خواں‘‘ تذکرہ نگار …پروفیسر اکرم رضا

’’کاروانِ نعت کے حدی خواں‘‘
تذکرہ نگار …پروفیسر اکرم رضا

پروفیسر محمد اکرم رضا کا وطن عزیز کے نامور قلمکاروں میں شمار ہوتا ہے بالخصوص اُردو نعتیہ ادب کے حوالے سے آپ کے مضامین و مقالات کے علاوہ کئی کتابیں منظر عام پر آئیں ان کی ایک کتاب ’’کاروانِ نعت کے حدی خواں‘‘ کو خاصی پذیرائی حاصل ہوئی ۔ کتاب کو ممتاز نعت گو ادیب ، محقق ، مدیر ’’مفیض‘‘ جناب اقبال نجمی نے اپنے ادارے’’فروغ ادب اکادمی‘‘ گوجرانوالہ کے زیر اہتمام ۱۹۸۹میں شائع کیا۔ کتاب کو سیّدنا حسّان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منسوب کیا گیا ہے۔ کتاب میں پانچ ممتاز و معروف صاحب کتاب نعت گویان اُردو کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
۱۔ الحاج محمد یعقوب ضیا القادری بدایونی ۲۔ صوفی محمد شریف غیر قادری
۳۔ سیّد محمد مرغوب اختر الحامدی ۴۔ حافظ سراج الحق حافظ لدھیانوی
۵۔ ریاض حُسین چوہدری
مصنف نے شعرائے کرام کا انتخاب بہت خوب کیا ہے۔
یعنی ’’ جوذرّہ جس جگہ ہے وہیں آفتاب ہے‘‘
مولانا ضیا القادری رحمتہ اللہ علیہ کے بارے میں میں نے کہیں لکھا تھا کہ آپ نے پاکستان بالخصوص کراچی میں طرحی و غیر طرحی نعتیہ مشاعروں کی بنیاد رکھی۔ اُن کا شمار صف اوّل کے نعت گویان میں ہوتا ہے اُن کے تلامذہ کی تعداد اچھی خاصی ہے اُن کے چند شاگردوں نے بڑا نام کمایا اور اپنے استاد محترم کا نام بھی روشن کیا۔بالخصوص اخترؔ الحامدی، شکیل بدایونی،صابربراری، وقاراجمیری اور مولانا رہبر چشتی کے نام نمایاں ہیں۔
سیّد محمد مرغوب اختر الحامدی کا شمار بھی صاحب طرز نعت گویان میں ہوتا ہے ان کا مجموعۂ نعت’’ نعت محل‘‘ شائع ہوچکا ہے۔ ’’نعت محل‘‘ کو نعتیہ ادب میں ایک اہم مقام حاصل ہے راجا رشید محمد(مدیر ماہنامہ’’نعت‘‘لاہور) اور شہزاد احمد مدیر ’’حمد و نعت‘‘ بھی آپ کے تلامذہ میں شامل ہیں۔
حافظ لدھیانوی کے ۲۳ مجموعہ ہائے نعت اور تین مجموعہ ہائے حمد شائع ہوچکے ہیں قارئین بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ حافظ صاحب نے فروغ حمد و نعت کے لیے کتنا زیادہ کام کیا ہے
صوفی محمد شریف قادری کے بارے میں پروفیسر اکرم رضا لکھتے ہیں کہ
صوفی محمد شریف قادری نامور عالم دین ، خطیب ، ماہرِ تعلیم ، ادیب ، طبیب اور شاعر تھے۔ قدرت نے آپ کو بے پناہ صفات سے نواز رکھا تھا۔
آپ نے گوجرانوالہ ہی سے دو ماہناموں ’’غیرت‘‘ اور ’’معرّف‘‘ کا اجرا کیا یہ ماہنامے علمی و ادبی اور مذہبی و روحانی مضامین شائع کرتے تھے اور ملک کے مشاہیر ادیب اور شاعر ان رسالوں کے لیے لکھا کرتے تھے۔ آپ اردو اور پنجابی کے علاوہ عربی اور فارسی میں بھی شعر کہتے

تھے آپ کی باقیات میں بھی نعتوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ریاض حُسین چوہدری عصر حاضر کے معروف نعت گو شاعر ہیں۔ ان کے کئی نعتیہ مجموعے منصۂ شہود پر نمودار ہوچکے ہیں۔موصوف اپنے لب و لہجے کی وجہ سے دنیائے نعت میں اپنی شناخت رکھتے ہیں۔
ہماری دانست میں ’’کاروانِ نعت کے حُدی خواں‘‘ پروفیسر اکرم رضا کی بہترین کوشش و کاوش ہے۔ اردو حمدیہ و نعتیہ تذکروں میں مذکورہ تذکرے کو بھی خصوصی اہمیت حاصل ہے۔
٭٭٭٭٭