کام جو کوئی نہ کرپائے خدا کرتا ہے رزق پتھر میں بھی کیڑے کو عطا کرتا ہے

افسرؔ امرہوی

کام جو کوئی نہ کرپائے خدا کرتا ہے
رزق پتھر میں بھی کیڑے کو عطا کرتا ہے

ایک اس کا ہی درایسا ہے جہاں پرانساں
سرجھکانے سے سرافراز ہوا کرتا ہے

لالہ زاروں میں بدل دیتا ہے صحرائوں کو
باد صرصر کو وہ پل بھر میں صبا کرتا ہے

تو نہ چاہے تو کہیں ہل نہیںسکتا پتہ
تو اگر چاہے تو پھر عرش ہلا دیتا ہے

بات اس شخص کی ٹالی ہی نہیں تونے کبھی
تیرے محبوبؐ سے جو شخص وفا کرتا ہے

تیرے محبوبؐ کا محکوم اگر حاکم ہو
حکم پانی پہ ہوائوں پہ چلا کرتا ہے

تیرا محبوبؐ امانت جسے دے جائے اسے
تیرے محبوبؐ کا بستر بھی ملا کرتا ہے