کتاب کا نام۔سورج نکلا ہے         (حمدیہ ‘نعتیہ ہائیکوز)

کتاب کا نام۔سورج نکلا ہے         (حمدیہ ‘نعتیہ ہائیکوز)

شاعر۔سید محمدنور الحسن نورؔ نوابی عزیزی     مبصر سعید رحمانی

حضرت سید محمد نور الحسن نورؔنوابی عزیزی کا شمار ایسی صوفی منش شخصیتوں میں ہوتا ہے جن کے ارادت مندوں کا ایک بڑا حلقہ بر صغیر ہندوپاک میں موجود ہے۔خدمتِ دین و ملت کے علاوہ آپ ایک صوفی منش شاعر کی حیثیت سے بھی مستحکم شناخت رکھتے ہیں۔تقدیسی شاعری ہی ان کی سوچوں کا محور ہے۔ بارگاہِ رسالت مآب میں گلہائے عقیدت کے نذرانے کبھی غزل تو کبھی نظم ‘کبھی قطعات تو کبھی رباعی اور دیگرہئیتوں میں بھی پیش کرتے رہتے ہیں۔محامد‘ نعوتِ پاک اور مناقب پر مشتمل ان کے نصف درجن سے زائد مجموعے منظرِ عام پر آکر اہل ِادب سے خراج حاصل کرچکے ہیں۔موصوف کے فکروفن پر بھی ایک مجموعہ ’’پسِ اعترافِ سخن‘‘ کے نام سے شائع ہو چکا ہے جس میں ملک کے بیشتر ناقدین ِ ادب کے گراں قدر تاثرات شامل ہیں ۔

حضرت نورؔ کے اسلوب اور رجحان کے حوالے سے عرفان صدیقی فرماتے ہیں’’باوجود موضوعات و مضامین کی گہرائی و گیرائی کے حضرت والا کے شعری مآخذ تک پہنچنے اور سمجھنے میں کوئی دشواری و اشکال کے مراحل قارئین و سامعین کو کسی الجھن میں نہیں ڈالتے بلکہ صاف و شفاف ہونے کی وجہ سے اپنے آپ میں اپنی صراحت ووضاحت سے معمور ہوتے ہیں‘‘۔اس کتاب میں جن مختلف مشاہیرِ ادب کی آرا شامل ہیں ان کے مطالعہ سے حضرتِ نور کی تقدیسی شاعری کے مختلف روشن گوشے اُجاگر ہوتے ہیں۔

نعت گوئی کے لئے غزل کا فارم زیادہ مقبول ہے اور تقریباً ہر شاعر اسی فارم کو نعت کہنے کے لئے ترجیح دیتا ہے۔ حضرتِ نور کی بیشتر نعتیں بھی غزلیہ فارم میں ہیں۔تاہم دیگر ہئیتوں میں بھی وہ طبع رسائی کر کے اپنی فنی مہارت کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔

زیر نظر مجموعہ نعتیہ ہائیکوز پر مشتمل ہے۔ ہائیکو جاپانی صنف سخن ہے۔ سہ مصرعی نظم کی صورت میں اس کی مسلمہ بحر ہے۔

فعلن فعلن فاع/فعلن فعلن فعلن فاع/فعلن فعلن فاع

یعنی ۵‘۷‘۵ سیلبل ہے اور یہی فارم اردو ہائیکوز میں مروج ہے۔مجموعے میں شامل سبھی ہائیکوز اسی مسلّمہ بحر میں کہے گئے ہیں جن کے مطالعہ سے ظاہر ہے کہ حضرت ِ نور کو جہاں عروضی و لسانی مہارت حاصل ہے وہیں ہر فارم میں اپنے خیالات کی تجسیم کرنے کی قدرت بھی رکھتے ہیں۔ان سبھی ہائیکوز سے حضرت کے عقیدت مندانہ جذبات کا برملا اظہار ہوا ہے۔ ان ہائیکوز میں ندرتِ بیان بھی ہے اور زبان کی شگفتگی بھی۔اس کے علاوہ حمدیہ ہائیکوز موصوف کے جذبۂ عبودیت کا روشن اظہاریہ ہیں جب کہ نعتیہ ہائیکوز سے سرکار دوعالمﷺ سے گہری عقیدت اور محبت مترشح ہے۔مثلاً چند ہائیکوز ملاحظہ ملاحظہ فرمائیں:

ہر لخطہ ہر آن/اے خالق/تری بیاں ہو شان

دیکھا ہے اکثر/رب کی رضا سے اُڑ کر/پانی دھواں بنتا ہے اکثر

ہم نے دیکھے ہیں/شہرِ نبی کے پتھر بھی/پھول سے اچھے ہیں

روشن سینہ ہے/تیری محبت کا آقا /دل گنجینہ ہے

اے شہرِ مدینہ/تیرے ہجر کی بستی میں/بے کار ہے جینا

مختصر کہنا چاہوں گا حضرتِ نور نے ان ہائیکوز میں جہاں اپنے مطہرہ جذبات کو سر خروئی کے ساتھ شعری جامہ عطا کیا ہے وہیں ان کی فنی و لسانی مہارت کا اظہار بھی ہوتا ہے۔آخر میں پروفیسر سحر انصاری کی اس رائے پر اپنی بات ختم کرنا چاہوں گا ۔’’نور الحسن نور ؔ کو قدرت نے جو فن شاعری عطا کیا ہے اس کا انھوں نے شکرانِ نعمت ادا کرنے کے لئے تعریفِ سبحانی اور توصیفِ محبوبِ ربّانی ﷺکے گلہائے رنگا رنگ مختلف اصنافِ سخن میں کھلائے ہیں جس کی ایک مثال ان کے حمدیہ و نعتیہ ہائیکوز کا مجموعہ ’’سورج نکلا ہے ‘‘۔

اب تک بیشتر اصنافِ سخن میںحمدیہ ونعتیہ مجموعے شائع ہوچکے ہیںلیکن ہائیکوز کے فارم اس مجموعے کی اولیت کا سہرا حضرتِ نور کے سرجاتا ہے جس کے لئے وہ لائقِ مبارک باد ہیں۔امید ہے اہل ادب پہلے کی طرح اس کا بھی خوش دلی سے استقبال کریں گے ۔قیمت ۱۰۰؍ روپے ہے اور ملنے کا پتہ آستانہ عالیہ نوابیہ قاضی پور شریف۔پوسٹ مندوہ،تحصیل کھاگا۔ضلع فتحپور۔ہسوہ۔۲۱۲۶۵۳(یو پی)