کتاب کا نام : ازہار مدینہ(نعتیہ مجموعہ)

کتاب کا نام : ازہار مدینہ(نعتیہ مجموعہ)
شاعر:پروفیسر فاروق احمد صدیقی مبصر۔سعید رحمانی ؔ

پروفیسر فاروق احمد صدیقی کی پرورش و پرداخت مرکز رشد و ہدایت سر زمین پوکھر یرا کے ایسے ماحول میں ہوئی جس کی فضا نغماتِ نعت کی مہک سے معطر ہو رہی تھی ۔یہ صورتِ حال آج بھی وہاں پر برقرار ہے ۔یہاں میلاد پاک اور نعتیہ مشاعروں کے انعقاد کا سلسلہ عرصۂ دراز سے جاری ہے۔ظاہر سی بات ہے کہ ایسے ماحول میں جس کی پروش ہو اس پر نعتیہ شاعری کا اثر انداز ہونا فطری عمل ہے۔ چنانچہ فاروق صاحب بھی ان محفلوں میں اول اول بحیثیت نعت خواں شریک ہونے لگے۔اس طرح ان کی ذہن سازی ہونے لگی اور پھر ایک وقت ایسا آیا کہ وہ بھی نعت کہنے لگے۔ اس ضمن میں ان کے استاد مکرم پروفیسر نجم الھدیٰ صاحؓ کی رہنمائی نے حوصلہ بخشا۔ پروفیسر سید طلحہ رضوی برقؔ سے بھی گاہے گاہے مشورہ لیتے رہے۔ اس طرح ان کی نعتیہ شاعری برگ و بار لانے لگی اور آج ان کا شمار معتبر نعت گو شعرا میں ہونے لگا ہے۔
نعتوں اور منقبتوں پر مشتمل زیر نظر مجموعہ ان کی اولین پیش کش ہے جو کہ نبیٔ برحق سرکار دوعالم ﷺسے ان کی گہری عقیدت اور محبت کا آئینہ دار ہے۔ اس مجموعے پر تاثرات پیش کرنے سے قبل یہ بتا دوں کے صنفِ نعت یوں توآ

سان نظر آتی ہے مگر حقیقت میں یہ بہت مشکل فن ہے۔حضرت ناوک حمزہ پوری فرماتے ہیں’’نعت گوئی کا فن اپنے دونوں طرف خاردار جھاڑیوں والی تنگ گزرگاہ سے بسلامت گزرجانے کا فن ہے‘‘۔مطلب یہ ہے کہ یہاں جوش کے ساتھ ہوش سے کام لینا ضروری ہے ورنہ الوہیت اور رسالت میں حد فاصل برقرار رکھا نہیں جا سکتا۔ جنھوں نے نعت کہتے ِ وقت ہوش سے کام نہیں لیا ہے ان کے یہاں خلاف شرع اشعار سرزد ہوئے ہیں۔ مثلاً یہ شعر دیکھیں :
اللہ کے پلے میں وحدت کے سوا کیا ہے
جو کچھ مجھے لے لینا ہے لے لوں گا محمد سے
لیکن’’ازہار مدینہ‘‘ کے مطا لعہ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ پروفیسر فاروق صاحب نے بہت سنبھل کر نعتیں کہی ہیںجن میں عقیدت و محبت کی سرشارانہ کیفیت بھی ہے اور شعریت کا حسن و جمال بھی۔ یوں ان کی شاعری کا کینوس بہت وسیع ہے جس میں سیرت کے مختلف گوشے روشن نظر آتے ہیں مگر یہاں بطور خاص ایسے اشعار پیش ہیں جن سے آنحضور ؐ کے اسوۂ حسنہ اور ان کی ذاتِ گرامی کی عظمت و رفعت کا برملا اظہار ہوا ہے ۔ملاحظہ فرمائیں :
تو ہی مطلع،تو مقطع، تو ہی اول تو ہی آخر۔مکمل تیری ذات پاک سے نظم رسالت ہے
مرحبا ان کے لب ِ پاک کی جنبش جس سے۔سنگ ریزوں نے تکلم کی ادا پائی ہے
شجر بولا‘حجر بولا‘قمر نے شق کیا سینہ
مرے سرکار کی عظمت کا قائل بے زباں تک ہے
جہاں سرکار دو عالم کی بارگاہ ہے اس مقام سے ہر صاحبِ ایمان کا عشق ہونا فطری امر ہے ۔چنانچہ پروفیسر موصوف بھی اس عشق میں مبتلا نظر آتے ہیں اور بار بار اس کے دیدار کی تمنا کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اب تک چھ مرتبہ دیدار مدینہ کا شرف حاصل کرچکے ہیں ۔چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
پھر اذن حضور کا مل جائے فاروق حزیں کو اے مولا
پھر فخر و مسرت سے وہ کہے دوبارہ مدینہ دیکھوں میں
وہ منبع انوار مدینے کی زمیں ہے۔خم شمس و قمر کی بھی عقیدت سے جبیں ہے
روشنی آنکھوں کی روز افزوں رہے گی تا ابد۔خاکِ طیبہ کا ذرا سرمہ لگا کر دیکھئے
مجموعی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ یہ مجموعہ پروفیسر فاروق احمد صدیقی صاحب کی گہری عقیدتوں کا مظہر ہے۔ انھوں نے اپنے عقیدت مندانہ جذبات کو اپنے مخصوص انداز میں بڑی سادگی اور پُرکاری کے ساتھ پیش کیا ہے۔ خوشی کی بات ہے کہ معروف نعت گو شعرا میں ان کا شمار ہونے لگا ہے۔ اپنی بات ان کی اس شعر پر ختم کرنا چاہوں گا:
یہ نعت مصطفیٰ کی دین ہے فاروق صدیقی
تمھارا ورنہ ہر اک بزم میں چرچا نہیں ہوتا