کرتا ہوں ترے نام سے آغاز الٰہی تو ہی ہے نگہباں تو ہی دمساز الٰہی

خلیل احسنؔ (لکھنؤ)

کرتا ہوں ترے نام سے آغاز الٰہی
تو ہی ہے نگہباں تو ہی دمساز الٰہی

جس نے کئے یوں فاش ترے راز الٰہی
خاکم بدہن میں ہوں وہ غماز الٰہی

ناچیز کو بھی معرفتِ حق کی طلب ہے
بے وجہ نہیں اپنی تگ و تاز الٰہی

توقادرِ مطلق ہے تو ہی خالقِ کونین
تو ہی ہے جہاں دارو جہاں ساز الٰہی

بھرتا ہے فضائوں میں توہی رنگ خدایا
دیتا ہے ہوائوں کو تو ہی ساز الٰہی

تو ہی ہے مددگار مرا تو ہی معاون
تو نے ہی کیا مجھ کو سرفراز الٰہی

ہیں شاہ و گدا سب ترے دربار میں یکساں
دنیا سے جدا ہے ترا انداز الٰہی

جز تیرے کسے میں پئے امداد پکاروں
تو ہی ہے مرا محرم و ہمراز الٰہی

طے کرتی ہے لمحوں میں جو صدیوں کی مسافت
تفویض کی وہ قوتِ پرواز الٰہی

ہر اچھا برا ہے تری توفیق پہ مبنی
رکھنا برے کاموں سے مجھے باز الٰہی

ہر عہد میں جو دور سے پہچان لیاجائے
احسنؔ کو دے وہ لہجۂ ممتاز الٰہی