کرناٹک میں نعتیہ شاعری

کرناٹک میں نعتیہ شاعری

غلام ربانی فداؔ

پڑوسی ملک پاکستان میںنعتیہ شاعری کی خوشبو ئیں روزبروزبیرون ممالک کومعطرکررہی ہیں ۔اورنعت خوانی فن قرات کی طرح مقبول ہوتی جارہی ہے۔ مرد شاعر ہوں کہ خواتین شاعرات سبھی اس میدان میں اپنے جوہر اورحضور ﷺ سے محبت کا پرخلوص اظہار (کرچکے اور) کررہے ہیں ۔ ان شعراء اور شاعرات میں چند نام یہ ہیں ۔ صابرشاہ آبادی، رزاق اثرشاہ آبادی ، ڈاکٹر وحیدانجمؔ، ظہیررانی بنوریؔ، حافظ کرناٹکیؔ، ڈاکٹرداؤدمحسنؔ ، ڈاکٹرصغریٰ عالم، راج پریمیؔ ، کامل کلادگی ، سلام نجمیؔ۔ سلیمان خمارؔ، ریاض احمدخمارؔ، منیراحمدجامیؔ، صابرفخرالدین، جیلانی شاہدؔ، مبین منور،وغیرہ وغیرہ ۔ کرناٹک کے نعت گو شعرا اس میدان میں کیفیت اور کمیت ہردواعتبار سے آگے ہیں ۔
جب بات موضوعات اور طرزِ اظہار کی ہوگی تو کرناٹک کے نعت گوشعردیگرریاستوںکے نعت گو شعرا سے نصف صدی پیچھے ہیں۔ کرناٹک کے اکثر نعت گوشعرا میں آداب نعت اور موضوعات کافقدان ہے۔ ہمیں شعرائے کرناٹک کے یہاںصرف اور صرف ایک موضوع مدینہ سے دوری ومہجوری نظرآتاہے۔ سیرتِ نبویﷺ کے دیگر پہلو پیش کرنے اور اس کے لئے الفاظ کے چناؤ میں ہم پیچھے ہیں۔ موضوع کے انتخاب اور سیرت نبی کواپنی نعتوں میں احسن اندازمیں پیش کر رہے ہیںانہیں انگلیوں پرشمارکیاجاسکتا ہے مثلاً منیراحمدجامی، سلام نجمی،ریاض احمدخمار،سلیمان خمار،ڈاکٹر راہیؔ فدائی وغیرہ۔
واضح رہے کہ رسولِ کریم ﷺکی بارگاہ میں عرض کرنے کے لئے ہمیں عمدہ عمدہ سے موضوع والفاظ کاانتخاب کرناچاہئے۔ نعت کا موضوع ظاہرمیںبڑا آسان، عام فہم اور سادہ لگتا ہے حقیقت تویہ ہے کہ یہاں رتی بھرکوتاہی اور غفلت کی گنجائش نہیں۔ذرا سی لغزش نعت گو کے سارے اعمال اکارت اور ضلالت و گمراہی کے عمیق گڑھے کے سبب بن سکتی ہے۔دنیا وآخرت میں ذلت ورسوائی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔مشہورشاعر عرفیؔ جب گلستانِ نعت میں آتا ہے تو کانپ اٹھتا ہے اس کے نزدیک نعت گوئی تلوار کی دھار پر چلنے سے مشکل معلوم ہوتی ہے:
عرفی مشتاب این رہِ نعت است نہ صحراست
آہستہ کہ رہ بر دمِ تیغ است قدم را
مولانا احمد رضا خان بریلوی؄ کے نزدیک نعت گوئی انتہائی مشکل کام ہے۔ گویا تلوار کی دھار پر چلنا ہے ذرا سا آگے بڑھے تو الوہیت کی حدود میں داخل ہو گئے اور ذرہ برابر بھی کمی کی تو مصطفیٰ جانِ رحمتﷺ کی شانِ بابرکت میں تنقیص کاباعث بنے گی۔ یہ یقینی بات ہے کہ نعت گوئی جہاں سعادت ہے وہیں اس کی ہرجانب آداب کے پہرے نہایت ہی سخت ہیں۔
قرآن کریم نقش نعت ہے ۔ جس میں نعت کے اصول وضوابط اورطریق کار کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اوریہ بتایاگیاہے کہ نعت گوئی کے بنیاد کیاہے اورلوازمات کیاہونے چاہئے۔زبان وبیان کیسا اختیار کرنا چاہئے۔اسی کی بناپر صحابہ کرام نعت کہتے رہے۔ حضورسروردوعالمﷺ گوکہ شاعر نہیں تھے لیکن اعلیٰ درجہ کاذوقِ شعر رکھتے تھے۔رجزیہ اشعار پڑھنا آپﷺ سے ثابت ہے۔اوراسی سبب آپﷺ نے مسجدنبوی میں حضرت حسان کے لئے منبر بچھوائے اورنعتیہ اشعارسماعت فرمائے۔اورانہیں دعاؤں سے نوازا آپﷺ نے بہ فرمائش صحابہ کرام سے اشعارسماعت فرمائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ’’شعر میں حکمت ودانائی بھی ہوتی ہے ‘‘۔ایک موقع پر حضورﷺ نے فرمایا۔’’کلمۂ حکمت تومومن کی متاعِ گمشدہ ہے۔
نعت کہیے! بڑے شوق سے کہتے رہیے۔ مگر خدا را ادب و احترام سے منھ نہ موڑیے کہ ادھر تو غزلیہ مشاعرے میں اپنی تازہ ترین غزل پر واہ واہ کرالی اور اُس سے ملتے جلتے اشعار لکھ کر نعت کی سرخی جما کر داد سمیٹنے کے لیے نعتیہ تقاریب میں بھی چلے آئے۔ آپ غزل بے شک لکھیے، کیوںکہ اکثر اچھے غزل گو شعرا نے ہی میدانِ نعت میں حسنِ تغزل کے گلاب بکھیرے ہیں۔ مگر یہ ملحوظِ خاطر رہے کہ غزل کے حسنِ تغزل اور نعت کے حسنِ تغزل میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ایک طرف بوالہوسی ہے تو دوسری طرف عشقِ رسول، ایک طرف محبوبِ مجازی کے خدوخال ہیں تو دوسری طرف صاحبِ قران کے دل آویز خطوطِ سیرت و صورت۔ ایک طرف ادبی تقاضے کا اظہار ہے تو دوسری طرف عاجزی و انکساری، ایک طرف پُرشکوہ الفاظ کی بھرمار ہے تو دوسری طرف محبتِ رسولﷺ سے حیات تازہ پانے والے مہک بار اور مقدس تصورات کی لطافت انگیزی۔ ایسے عالم میں نعت گو شاعر ذرا بھی احتیاط سے کام لے تو نعت میں بھی حسنِ تغزل کی ضوباری دکھا سکتا ہے۔ مگر یہ کمالِ تغزل ایسا لطافت آفریں ہوگا کہ پڑھنے والوں کی آنکھیں بے اختیار اشکوں سے وضو کرنے لگیںگی۔
نعت جیسی پاکیزہ صنفِ سخن میں روایتی غزل کے لیے مستعمل شدہ غزلیہ مضامین عامیانہ سطح کی تراکیب اور معمولی نوعیت کی تشبیہات اور استعارات سے حتیٰ المقدور دامن بچایا جائے۔ غزل میں تو شاعر نے اپنے ممدوح کو ہر لحاظ سے ہمہ خوبی دکھانا ہوتا ہے۔ اس لیے وہ دُور ازکار تشبیہات کا سہارا بھی لیتا ہے کہ اس کا محبوب دوسرے شعرا کے محبوبوں سے زیادہ دل آویز، حسین و جمیل نظر آئے۔ اپنی بلندپردازی کے لیے وہ کسی اُصول و ضابطے کا پابندنہیں ہوتا بلکہ اس کی جملہ ادبی و شعری توانائیاں اپنے محبوب کو ہر لحاظ سے شانِ محبوبی دکھانے کے لیے صرف ہوتی ہیں۔۔۔ مگر نعت میں معاملہ برعکس ہے۔ یہاں تو اُس کی توصیف ہو رہی ہے جسے اُس کے خالق نے پہلے ہی سے ہمہ صفت موصوف بنایا ہے۔ جس میں کسی کمی یا خامی کا وجود تو کجا شائبہ تک نہیں ہے۔ تصور یہ ہونا چاہیے کہ ہم ایسے ہمہ صفت محبوبِ خدا کی توصیف کرکے اپنے ادبی کمالات کے ظہور میں ایک دوسرے پر بازی نہیں لے جارہے بلکہ ہم تو اس ہمہ صفت موصوف کی ثناگوئی کرکے اپنی عاقبت سنوار رہے ہیں۔ ورنہ جناب محمد(ﷺ) اور خداے محمد(ﷺ) ہماری توصیف اور حمد ونعت کے محتاج نہیں۔ البتہ ہماری تمام تر نام وری (اگر میسر ہے تو) احترامِ بارگاہِ رسالت مآبﷺ ہی میں مضمر ہے اس لیے عامیانہ قسم کی تشبیہات اور استعارات سے گریز کرکے مقاماتِ محمدﷺکی سربلندی کو وظیفۂ حیات بناکرہی نعت کے قافلے میں صدی خراقی کافریضہ ادا کیاجاسکتا ہے۔(جہان نعت شمارہ ۱)
بات کہاں سے چلی کہاں پہنچی۔بہرکیف۔
کرناٹک میں غیرمسلم نعت گوشعرانے بھی اپنی ادبی حصہ نعتیہ ادب میں شامل کرنے کی ہرممکن کوشش کی ہے۔جن میں راج پریمی، کامل کلادگی، طلب راج سیٹھ وغیرہ نمایاں ہیں۔
ریاست کرناٹک کے شعرائے نعت میں ابھی تک نعت کو ادبی نقطۂ نظرکی بجائے صرف اورصرف عبادت سمجھ کر کہہ رہے ہیں۔جبکہ اردو کے اولین نعت گوشاعر خواہ خواجہ بندہ نواز کو مانا جائے یاپھر فخردین نظامی کی مثنوی کواولین نعت تسلیم کیجائے ۔بہرصورت ہمیں یہ مانناپڑے گا کہ اردونعتیہ شاعری کا آغاز خطۂ دکن سے ہوا۔
کرناٹک کی نعتیہ شعری منظرنامےپر اگر نظر ڈالی جائے تومحسوس ہوگاکہ جہاںقدیم دکنی شعرا حضرت خواجہ بندہ نواز ،فخر دین نظامی،صنعتی بیجاپوری، محمد نصرتی بیجاپوری،ولیؔ دکنی (واضح ہوکہ یہ ولی دکنی گجرات سے ہجرت کرکے بیجاپورمقیم ہوگئے تھے)سید محمدفراقیؔ،خانصاحب سلیم وغیرہ جیسے مشاق وصاحبانِ بصیرت شعراء نعت نظرآتے ہیں وہیں۔ موجودہ دور میں نعت نگاری کے ذریعے صابرشاہ آبادی،منیراحمدجامی،سلیمان خمار، سلام نجمی ،ریاض احمدخمار،ڈاکٹر وحیدانجم، ڈاکٹر صغری عالم،ڈاکٹرراہیؔ فدائی، تاج ؔنوردریا،کوثرجعفری،جوہرؔصدیقی، رزاق افسرؔ وغیرہ نے اپنی نعتیہ شاعری میں نت نئے عنوانات کولفظوں کے مالاپروکر بارگاہِ رسالتمآب میں پیش کرچکے اور کر رہے ہیں۔
میرے علم کے مطابق ریاست کرناٹک میں اب تک تقریباً پینسٹھ خالص نعتیہ مجموعے اور ۲۳ نعتیہ انتخابات،ایک نعت گوشعرا کی ڈائرکٹری اور تین نعتیہ شاعری پر نثری کتب شائع ہوچکے ہیں۔
اس کے علاوہ فی الحال گلبرگہ یونیورسٹی اور کوئمپویونیورسٹی سے کرناٹک میں نعتیہ شاعری پرپی ایچ ڈی کے مقالے لکھے جا رہے ہیں۔
اسی عنوان پر جہان نعت کاخصوصی شمارہ ’’کرناٹک میں نعت گوئی‘‘ اور ناچیز کی کتاب ’’کرناٹک میں نعتیہ شاعری‘‘ بھی شائع ہوچکی ہیں۔
نعتیہ شاعری کے عروج وارتقاء میں ریاست کے اردوروزناموں کابھی کافی عمل دخل رہاہے۔ اس بات سے کوئی اختلاف نہیں کیا جاسکتا خصوصاً روزنامہ سیاست وروزنامہ سالار کو۔
ان نعت نمبروں کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ بیشمارنعتیں ہیں جن سے ذہن کوکشادگی اورروح کو بالیدگی حاصل ہوتی ہے۔نعت گوشعراہرنمبر میں محفل نعت سجائے نظرآتے ہیں۔ان میں مقام استادی پرفائزبھی ہیں اور نئی نسل کے تازہ کار قلمکاربھی۔
نعت ہی کیا ہرقسم کے مذہبی اورنیم مذہبی ادب پر تقدیس کے نقاب ڈال کرانہیں تنقیدسے بالاترقراردیاجاتاہے۔اس نوع کے ادب کے مضامین ، طرزبیان،زبان کے حسن وقبح پرگہری نگاہ ڈالنابے ادبی تصورکی جاتی ہے۔اس لئے ان کی ستائش کے سواکچھ نہیں لکھاجاتا۔کم وبیش یہی صوت حال نعت نمبروں کا ہے اس حقیقت کے کے باوجودان مضامین کی اہمیت وافادیت سے انکاربھی نہیں مشمولہ مضامین میں تنقیدکافقدان سہی لیکن ان مین قدیم ادب پرپڑی گرد کوصاف کرکے ادب کے تاریخ کے ابواب کو روشن کیاگیاہے۔ ان قلمکاروں نے شاعروں کی توصیف کلمات اورنعوت نبی ﷺ کے نمونے شائع کرکے ایک ایساخام مواد عنایت کیاہے کہ کوئی بھی صاحب نظر ان سے استفادہ کرکے تنقیدی کمی کوپوراکرنے کی سعی کرسکتاہے۔
جیساکہ پہلے بھی میں نے عرض کیاہے کہ کرناٹک کے نعت گواشعرا کاپسندیدہ موضوع شہررسولﷺ سے دوری ومہجوری ہے۔آیئے عشق رسول ﷺ ملاحظہ کیجئے۔
میری نس نس میں محمدﷺ کا قرینہ لکھ دو
دل میں کعبہ تو نگاہوں میں مدینہ لکھ دو
(رزاق افسرمیسوری)
یہی ایک آرزو دل لئے کوثر تڑپتا ے
الٰہی قافلہ سوئے مدینہ کب روانہ ہو
کوثرجعفری
کہتے ہیں لوگ جس کو مدینہ منورہ
بے شک وہ سرزمین ہے سرحد یقین کی
ریاض احمدخمار
جنوں لے جائے گا جس دم اسے شہرِمدینہ میں
سنہری جالیوں کوتھامے دیوانہ کھڑا ہوگا
غلام ربانی فداؔ
ایوب کے جو گھر پہ سواری اتر گئی
سارے مدینے والوں کی قسمت سنور گئی
مبین منور
جمالِ دیدۂ بینا کا انتخاب ہیں آپ
خدا حجاب ہے آئینۂ حجاب ہیں آپ
مہ و نجوم کہاں اپنے آپ روشن ہیں
جو انبیا کاہے مرکز وہ آفتاب ہیں آپ
منیراحمدجامیؔ