کروں میں حمد کیا اے مالک ارض و سما تیری

حکیم حافظ عزمیؔ کلیمی

کروں میں حمد کیا اے مالک ارض و سما تیری
بڑا تو ہے بڑی ہے بات اے رب العلیٰ تیری
تری توصیف کیسے کر سکوں خود عقل حیرا ں ہے
نہ کوئی ابتدا تیری، نہ کوئی انتہا تیری
ہر اک ذی روح کو اک دن فنا کا جام پینا ہے
فقط باقی رہے گی ذاتِ عالی اے خدا تیری
نہ ہوں گے یہ زمین و آسماں وہ دن بھی آئے گا
ر ہے گا ہو کا عالم صرف گونجے گی صدا تیری
بنا دے بادشاہِ وقت اک ادنیٰ بھکاری کو
بڑا دربار ہے تیرا بڑی شانِ عطا تیری
ہمارا جینا مرنا ہو ترے ہی واسطے ہر دم
کریں وہ کام پوشیدہ رہے جس میں رضا تیری
جو کچھ کرنا ہے عزمیؔ آج کر لے کیا خبر کل کی
نہ جانے کس گھڑی آجائے منہ کھولے قضا تیری