کر رحم اے جاہ دینے والے بندے کو چاہ دینے والے

سیدمعراج جامیؔ (کراچی)

کر رحم اے جاہ دینے والے
بندے کو چاہ دینے والے

تو سر کو عجز بھی عطا کر
دستار و کلاہ دینے والے

تھوڑی شرمندگی بھی دے دے
اے لطفِ گناہ دینے والے

خوش بختی بھی نصیب فرما
اے حالِ تباہ دینے والے

سہتا ہوں عذاب آگہی کے
دل، حق آگاہ دینے والے

اب مجھ کو ہمت سفر دے
اے عرش کی راہ دینے والے

حرمت الفاظ کی عطا کر
لفظوں کی سپاہ دینے والے

رخشندہ ذہن بھی عطا کر
اے ذوقِ نگاہ دینے والے

توفیق اصلاح کی ہمیں دے
ہر آن گواہ دینے والے

ہم کو بھی بنادے چاند سورج
یہ مہر و ماہ دینے والے

جامیؔ کو دائمی خوشی دے
اے غم سے پناہ دینے والے