کوئی ماہتاب ہو جلوہ گر کوئی آفتاب طلوع ہو

شہبازندیم

کوئی ماہتاب ہو جلوہ گر کوئی آفتاب طلوع ہو
سرِ تیرگی زمانہ اب کسی معجزے کا وقوع ہو

میں اسیر دام گناہ ہوں مجھے علم ہے تو کریم ہے
کبھی میری سمت بھی اے خدا بصد التفات رجوع ہو

کوئی دل نہ ہو ہدف الم نہ ہو اب اداس کوئی بشر
ہے دعا کہ عرصۂ دہر پر نیا اک نظام طلوع ہو

مری سب خطائوں سے درگزر مرے سب گناہ معاف کر
مرے حق میں مالک بحرو بر تری رحمتوں کا وقوع ہو

مجھے صاحبان نظر خدا، ہنر سخن کی بھی داد دیں
کبھی نوک خامہ سے برملا کوئی ایسا شعر طلوع ہو