کون ڈھونڈے گا ابتدا تیری کون سمجھے گا انتہا تیری

رئیس احمد وفاؔ

کون ڈھونڈے گا ابتدا تیری
کون سمجھے گا انتہا تیری
ساری مخلوق ہے گدا تیری
واہ کیا شان ہے خدا تیری
تو جو چاہے تو صبح ہوتی ہے
شام ڈھلنے میں ہے رضا تیری
حکم سے تیرے دل دھڑکتے ہیں
دھڑکنیں دل کی ہیں عطا تیری
جن و انسان اور ملک مل کر
لکھ نہ پائیں کبھی ثنا تیری
ذرّے ذرّے میں نور پنہاں ہے
پتے پتے میں ہے ضیاء تیری
توبہ کرلے وفاؔ نہیں معلوم
زندگی کب ہو بے وفا تیری