کوہ فاراں سے دینے صدا ہادیٔ حق نوا آگئے کفر کی تیرگی چھٹ گئی نورِ توحید پھیلا گئے

کوہ فاراں سے دینے صدا ہادیٔ حق نوا آگئے
کفر کی تیرگی چھٹ گئی نورِ توحید پھیلا گئے
آمنہ بی کے گھر میں ہوا آفتاب ایسا جلوہ نما
دیکھ کر طلعتِ مصطفیٰؐ چاند تارے بھی شرماگئے
سن کے فر مان شاہ ِامم،کبر و نخوت کے ٹوٹے صنم
تھے صحابہؓ سبھی محترم نعمتِ آگہی پاگئے
پھینکتی تھی جو کوڑا سدا، وہ ضعیفہ جو بیمار تھی
تھی وہ سمٹی ہوئی شرم سے جب عیادت کو آقاؐ آگئے
تیر سے اور نہ تلوار سے صرف اخلاق و کردار سے
مصطفیٰ ؐ اپنی گفتار سے سارے عالم کو مہکا گئے
بھیجتے ہیں جو صابرؔ درود ہم پہ رحمت ہے اللہ کی
مدحتِ مصطفیٰؐ کے طفیل ہم نصیب اپنا چمکا گئے

صابر کاغذ نگری
کاشانہ صابر1-3-5Bنزد قدیم ریلوے گیٹ
سرپور کاغذ نگر۔504296