کٹھن وقت امت پہ آکر پڑا ہے نگہباں محافظ تو ہی اے خدا ہے

شگفتہؔ جمال (سکندر پور) بلیا

کٹھن وقت امت پہ آکر پڑا ہے
نگہباں محافظ تو ہی اے خدا ہے
خبر لے لے صدقے میں سردار دیں کے
مسلماں پہ یورش کی چھائی گھٹا ہے
تباہی سے امت بہت ہے پریشاں
کرم ہو کرم بس یہی التجا ہے
کہیں اک جگہ کی نہیں بات مولا
مصیبت میں ہر جا مسلماں پڑا ہے
گھٹائیں مظالم کی رب چھانٹ دے تو
یہی التجا ہے یہی مدعا ہے
مری بھی خبر لے لے صدقے میں شہ کے
خداوند عالم ترا آسرا ہے
ملے سیدہ فاطمہ بی کا صدقہ
شگفتہؔ کی ہر آن بس یہ دعا ہے