گداز ریشمی گفت و شنید ہو مولا متاع ذہن رسا بھی جدید ہو مولا

تلک راج پارس

گداز ریشمی گفت و شنید ہو مولا
متاع ذہن رسا بھی جدید ہو مولا

اک ایسا بندہ مرے گھر میں پرورش پائے
جو تیری راہ پہ چل کر شہید ہو مولا

جو میرے پاس ہے تاوان ہے سخاوت کا
یہ التفات و عنایت مزید ہو مولا

ہمارے ذہن کو عرفان آگہی دے دے
جو نسل نو کے لئے بھی مفید ہو مولا

یہ بدنمائی نمائش کبھی نہ کرپائے
جو احتجاج کا جذبہ شدید ہو مولا

ہمارے خون کی ہر بوند تیغ بن جائے
نظر کے سامنے جب بھی یزید ہو مولا

قبول ساری عبادت ہو روزہ داروں کی
جو تیری مرضی ہے ویسی ہی عید ہو مولا