گلہ بھی تجھ سے ہے، ارمان بھی تجھی سے ہے

محمدشاہدؔپٹھان

گلہ بھی تجھ سے ہے، ارمان بھی تجھی سے ہے
دعا بھی تجھ سے ہے، امکان بھی تجھی سے ہے
میں کائنات کے اسرار سے ہوں کچھ آگاہ
مگر یہ دولت عرفان بھی تجھی سے ہے
تری عطائوں کے محتاج ہیں جہاں والے
فقیر تجھ سے ہے، سلطان بھی تجھی سے ہے
ہمارا عشق نوازش پہ ہے تری موقوف
وفا بھی تجھ سے ہے پیمان بھی تجھی سے ہے
الجھ رہے ہیں زمانے سے تری چاہت میں
ہمارا چاک گریبان بھی تجھی سے ہے
ترے عتاب سے ابلیس ہوگیا ’’مردود‘‘
یہ خاکی صاحب ایمان بھی تجھی سے ہے
ترے ہی فضل سے دانائے راز ہے کوئی
رموز سے کوئی انجان بھی تجھی سے ہے
تری رضا پہ ہے موقوف رونق عالم
حیات و موت کا سامان بھی تجھی سے ہے
فلک پہ سارے نظارے بھی ہیں ترے شاہدؔ
زمیں پہ شہر، بیابان بھی تجھی سے ہے