گم گشتہ ٔ منزل ہیں رستہ ہمیں دکھلادے یارب غم ہستی سے ٹکرانے کا یارا دے

شارقؔ بلیاوی

گم گشتہ ٔ منزل ہیں رستہ ہمیں دکھلادے
یارب غم ہستی سے ٹکرانے کا یارا دے

منزل ہو نگاہوں میں وہ دیدۂ بینا دے
ماضی کا تقاخر دے آئینہ فردا دے

اپنے بھی ہوئے بیری دنیا بھی ہوئی دشمن
اک تیرا سہارا ہے اب تو ہی سہارا دے

پھر دشت و جبل لرزیں پھر بحر میں ہو ہلچل
وہ جرأت عالی دے وہ عزم ہمارا دے

پھر زرد ہوئے چہرے پھر سرد ہوئیں آہیں
ایماں کی حرارت سے پھر روح کو گرما دے

غفلت کے اندھیروں میں ہم خود کو بھلا بیٹھے
جینے کی بھی حسرت دے مرنے کی تمنا دے

پھر جوشِ وفا بھڑکے پھر برق انا کڑکے
وہ قوت بازو دے جو دہر کو دہلا دے

شارقؔ کو ندامت ہے ہر وقت خجالت ہے
اس بندۂ بے در کو احساس کی دنیا دے