ہجومِ غم ہے احساسِ خوشی سوغات میں دیدے اندھیروں میں گھرے ہیں روشنی سوغات میں دیدے

سجادسخنؔ

ہجومِ غم ہے احساسِ خوشی سوغات میں دیدے
اندھیروں میں گھرے ہیں روشنی سوغات میں دیدے

شعور و فکر پر ہونے لگیں گمراہیاں حاوی
خداوندِ دوعالم آگہی سوغات میں دیدے

گنوا بیٹھے زبان و رنگ و نسل و زر کے میلے میں
الٰہی قلب کی آسودگی سوغات میں دیدے

وہ سب کچھ چھین لے جو دور کردے آدمیت سے
ہمیں کردار کی پاکیزگی سوغات میں دیدے

جبینیں رو کشِ ماہِ منور جس سے رہتی تھیں
وہی عزو وقارِ بندگی سوغات میں دیدے

خلوصِ نطق سے جو پتھروں کو موم کرتی تھی
ہمیں لہجے کی وہ شائستگی سوغات میں دیدے

دلوں کو چھوسکے جو ہو اثر انداز ذہنوں میں
سخنؔ کو وہ شعورِ شاعری سوغات میں دیدے