ہر اک انسان پر تیرا کرم ہے سر تسلیم تیرے در پہ خم ہے

صباؔافغانی رامپوری

ہر اک انسان پر تیرا کرم ہے
سر تسلیم تیرے در پہ خم ہے
بیاں ہو کس طرح تیری بڑائی
قلم پر بھی ہے تیری ہی خدائی
بڑا ہی ذی حشم ذی شان ہے تو
سراپا منبع احسان ہے تو
تو جس کا چاہے بیڑا پار کردے
دہکتی آگ کو گلزار کردے
ہوئے آزاد یونس قید غم سے
نکالا تو نے مچھلی کے شکم سے
تو خالق ہے تری قدرت ہے سب پر
کرم کو اپنے رکھ غالب غضب پر
دکھا ہم سب کو راہِ راست مالک
تہہ دل سے یہ ہے درخواست مالک
جنہیں تیرا سہارا مل گیا ہے
انہیں جینے کا یارا مل گیا ہے
نہیں مایوس میں رحمت سے تیری
کہ میں ہوں آشنا قدرت سے تیری
ترے دربا سے جائیں کہاں ہم
نہیں پاتے ہیں تجھ سا مہرباں ہم
بھکاری ہیں ترے پیر و پیمبر
بناتا ہے تو ہی سب کا مقدر
ہمارے پاس کیا اس کے سوا ہے
تری توحید کا ہی آسرا ہے
رسالت بھی تری بخشی ہوئی ہے
ولایت بھی تری ہی دی ہوئی ہے
عصا موسیٰ کو تو نے ہی دیا ہے
سمندر ضرب سے جس کی پھٹا ہے
سکھایا نوح کو کشتی بنانا
چلا ہے نسل سے جن کی زمانہ
لحن دائودؑ کو دی ہے وہ چن کر
پرندے سر کو دھنتے جس کو سن کر
حسیں یوسفؑ کو اس درجہ بنایا

جو دیکھا ہوش وہ اپنے گنوایا
دیئے شمعون کو کچھ بال ایسے

کہ جن سے پھوٹتے قوت کے سوتے
ترا لطف و کرم ہے سب پہ حاوی

سبھوں پر تیری رحمت ہے مساوی
بنا کر امتی ہم کو نبی کا

ہمیں اعزاز بخشا جنتی کا
کرم تیرا کہ ذیشاں ہوگئے ہم

اک انساں سے مسلماں ہوگئے ہم
شریعت کا سبق ہم کو پڑھایا

نبی کی راہ پر چلنا سکھایا
ہمارے آنسوئوں کی لاج رکھنا

ہمیں رسوا کبھی ہونے نہ دینا
یہ مانا ہم بڑے کمتر رہے ہیں

خطائوں پر خطائیں کر رہے ہیں
مگر توبہ کا دراوزہ کھلا ہے

جو ہم سب کے لئے اک آسرا ہے
منا لے گی تجھے توبہ ہماری
گناہوں پر سسکتی شرمساری
تصدق دل تری شانِ کرم کے
تصور کیوں نہ لے پھیرے حرم کے
بندھی ہے صرف تجھ سے آس اپنی

بجھا اپنے کرم سے پیاس اپنی
بھلا کر تجھ کو گر زندہ رہیں گے
بروزِ حشر شرمندہ رہیں گے
ترے بندے ہیں اپنی التجا سن
غلامانِ محمد کی صدا سن