ہر ایک شے میں نظر آئے تو ہی تو یارب! مگر میں کیسے کروں تجھ سے گفتگو یارب!

ناظم اشرفؔ کرت پوری

ہر ایک شے میں نظر آئے تو ہی تو یارب!
مگر میں کیسے کروں تجھ سے گفتگو یارب!

ہو جس کا خاص تعلق تری عبادت سے
مری رگوں میں اتر جائے وہ لہو یارب

رقیب کوئی نہ ہو اور رفیق دنیا ہو
عطا ہو مجھ کو وہ انداز گفتگو یارب

گناہگار ہوں لیکن نہیں ہوں میں مشرک
تیرے ہی ہاتھ ہے اب میری آبرو یارب

جب اعتماد کی کشتی لرزنے لگتی ہے
اسے بھنور سے بچاتا ہے صرف تویارب