ہر شئے میں تو ہی تو ہے ہر جا ظہور تیرا ہر رنگ میں نمایاں ہر دل میں نور تیرا

حکیم سید مظفر علی حکیمؔ سیوہاروی

ہر شئے میں تو ہی تو ہے ہر جا ظہور تیرا
ہر رنگ میں نمایاں ہر دل میں نور تیرا
پھولوں میںاور پھلوںمیں، شاخوں میں اور شجر میں
شام و شب و سحر میں خورشید میں قمر میں
بطنِ صدف میں پنہاں لعل و در و گہر میں
صحرا میں اور جبل میں اور سینۂ حجر میں
ہر شئے میں تو ہی تو ہے

دائود کی صدا میں یوسف کے خال و خد میں
میم محمدی میں احمد کے ہر عدد میں
اخلاق میں کرم میں ، ارواح میں جسد میں
منصور کی زباں میں شرحِ متیں کی حد میں
ہر شئے میں تو ہی تو ہے

عرشِ علیٰ میں پنہاں کرسی میں اور قلم
فردوس کی فضا میں اور دیر میں حرم
سینا کی وادیوں میں اور گلشنِ ارم میں
حادث میں جلوہ آرا اور عالمِ قدم میں
ہر شئے میں تو ہی تو ہے

امواج کوثری میں تسنیم کی فضا میں
گنگ وجمن کے لطفِ امواج دلکشا میں
لہروں میں بادلوں کی برسات کی گھٹا میں
اور آبشارِ جو میں کوہِ فلک نما میں
ہر شئے میں تو ہی تو ہے

بس اے حکیم مضطرؔ اب دل سے یہ دعا کر
آتش فشاں ہو جس دم خورشید روزِ محشر
دل میں ہو نور تیرا اور سر ہو تیرے در پر
لب پر ہو یہ ترانہ اے عاصیوں کے یاور
ہر شئے میں تو ہی تو ہے ہر جا ظہور تیرا
ہر رنگ میں نمایاں ہر دل میں نور تیرا