ہر طرف ہیں تری وحدت کے اجالے یارب تیری قدرت کے ہیں قرآں میں حوالے یارب

فہیم بسملؔ

ہر طرف ہیں تری وحدت کے اجالے یارب
تیری قدرت کے ہیں قرآں میں حوالے یارب
دل میں آیا جو ترے دنیا بنانے کا خیال
آیا محبوب کو بھی یکتا بنانے کا خیال
اوّلاً نورِ محمدؐ کیا پیدا تونے
ورفعنا لک ذکرک سے نوازا تونے
خلق قدرت سے کئے کتنے ہی عالم تونے
اور پیدا کیا پھر پیکرِ آدم تونے
تونے تخلیق کئے چاند ستارے اللہ
بخشے مخلوق کو خوش رنگ نظارے اللہ
بحروبر تیرے ہوا تیری ہے افلاک ترے
برگ و گل تیرے ہیں بے شک خس و خاشاک ترے
میرا ایماں ہے یہی قادرِ مطلق تو ہے
جس کی قدرت سے ہوا ماہِ مبیں شق تو ہے
کب سے ہی لطف کو ترسے ہوئے ان ہاتھوں کی
لاج رکھ لے مرے پھیلے ہوئے ان ہاتھوں کی
ایک مدت سے یہ بسملؔ ہے پریشاں مولیٰ
اپنی رحمت سے عطا کر اسے خوشیاں مولیٰ