ہر نفس تیرے گنہ گار تری حمد کریں لب جو کھولیں پئے اظہار تری حمد کریں

وقارؔ مانوی

ہر نفس تیرے گنہ گار تری حمد کریں
لب جو کھولیں پئے اظہار تری حمد کریں
صاحبِ زر ہوں کہ نادار‘ تری حمد کریں
روبہ صحت ہوں کہ بیمار تری حمد کریں
پردۂ غیب ہمارے لئے ہے پردۂ غیب
تو مگر محرمِ اسرار‘ تری حمد کریں
تیرے ہی نور سے مہر و مہ و انجم روشن
تو سراسر ہے پرانوار‘ تری حمد کریں
تیرے گن گائے جب اٹھلا کے چلے بادِ صبا
لہلہاتے ہوئے اشجار تری حمد کریں
یہ جھکے رہنا ہے کیا‘ پھل سے لدی شاخوں کا
پیڑ جتنے بھی ہیں پھل دار تری حمد کریں
ہر طرح دیکھ لیا‘ عاجز و مجبور ہیں ہم
اور تو مالک و مختار تری حمد کریں
حمد کا حق نہ ادا ہو‘ اگر اک عمر بھی ہم
ایک اک سانس میں سوبار تری حمد کریں
میری تخلیق کو مل جائے وقارؔ تخلیق
چپ لگے مجھ کو تو اشعار تری حمد کریں