ہم نہیں کہتے ہمیں شان سلیمانی تو بخش یہ بھی کہتے نہیں تخت اور سلطانی تو بخش

سلام نجمیؔ

ہم نہیں کہتے ہمیں شان سلیمانی تو بخش
یہ بھی کہتے نہیں تخت اور سلطانی تو بخش
یاخدا پھرسے متاع درس قرآنی تو بخش
ہم مسلمانوں کو پھر سچی مسلمانی توبخش
صدق،اخلاق ووفا اورعشق لاثانی توبخش
یعنی یاران نبیؐ کا وصف قربانی تو بخش
اقلیت کے فرق کا یارب نہ ہو ہم کو خیال
دعوت حق کا ہمیں انداز فارانی تو بخش
ہم مٹادیں پھر سے یارب فتنہ باطل تمام
خالدؓ و ایوبیؒ جیسی ہم کو جولانی تو بخش
دور کر ملت سے یارب مسلکی ناچاقیاں
اور دلوں کو جوڑدے آپس میں اک جانی توبخش
پیروی کرنے لگے ہیں ہم سبھی اغیار کی
پھر سے یارب ہم کو اپنی راہ نورانی تو بخش
اس مشینی دور کی جو بے حسی ہے ذوالجلال
بہررحمت بے حسی کو ذوق روحانی تو بخش
جب دیا ہے دل تو درد دل بھی کرہم کو عطا
یعنی ہم کو دردمندی اوردرمانی تو بخش
میں تری شان کریمی کے تصدق رب مرے
جس سے ملت کا بھلا ہو وہ سخندانی تو بخش
شاعری میں نعت گوئی ہو مری پہچان خاص
نعت گوئی کو مری ایسی فراوانی تو بخش
بندگی کی دے سدا توفیق رب ذوالجلال
اورنجمیؔ کو ترے حمد و ثنا خوانی تو بخش