ہو تم کو مبارک ہم نفسو! کعبے کا مدینے کا جانا

ہو تم کو مبارک ہم نفسو! کعبے کا مدینے کا جانا
جائیں گے وہاں اک دن ہم بھی، قسمت میں ہے گر لکھا جانا
افلاک کے پاک فرشتے بھی آتے ہیں ادب کے ساتھ جہاں
جاتا ہے وہاں پر صرف وہی، جب چاہے خدا جس کا جانا
’’بے عین عرب‘‘ جب اُن کو کہا، ’’بے میم احمد‘‘ بھی بتلایا
پوچھے کوئی ان فرزانوں سے، پھر تم نے خدا کو کیا جانا
قرآن میں ایسا کچھ بھی نہیں، نہ حدیث سے ثابت یہ مضمون
اے نکتہ نوازو! پھر تم نے کیوں سچ ’’لولاک لما‘‘ جانا
دو اس کو بشارت دوزخ کی، ہوجائے جو آقا سے باغی
اس راہ پر آخر کیوں وہ چلا، جس راہ پر اس کو نہ تھا جانا
جن راہوں سے اس دنیا کو ایمان ملا، آئین ملا
تاریخ بھلائے گی کیسے، وہ آپ کا ثور و حرا جانا
لمحوں میں دوعالم کو دیکھا، لمحوں میں پلٹ کر آبھی گئے
تھا قدرتِ رب کا کرشمہ وہ ’’بالاے ہفت سما‘‘ جانا
قرآن سے پوچھیں آ کے ذرا، آقا کے صحابہ کا رُتبہ
جو لوگ انھیں کہتے ہیں بُرا، آقا نے جنھیں اچھا جانا
ایمان کا دعویٰ سچ ہے اگر، یوں اُن کی بات کرو باور
صدیق نے مانا آقا کا جس طرح شبِ اسرا جانا
اللہ سے مانگا آقا نے خود ان کو خدمتِ دیں کے لیے
اے خیرہ نگاہو! تم نے ابھی فاروق کا رُتبہ کیا جانا

دو بار بنے دامادِ نبی، کیا کم ہے یہ عزت عثماں کی
خود اس کے ایماں میں ہے خلل، جس نے نہ انھیں سچا جانا
ہرگز یہ نہیں ہے مدحِ علی، ہے اس میں سراسر شرکِ جلی
کسی غیر خدا کو جس نے بھی مشکل میں عقدہ کشا جانا
اے زائرِ طیبہ لوٹ کے جب تو آئے نبی کے روضے سے
کیا دیکھا وہاں پر کیا پایا، کچھ آ کے ہمیں بھی سنا جانا

دکھلا دے رئیسِ حزیں کو بھی یارب! درِ پاک خیرِ بشر
جبریلِ امیں کا جس در پر ترے حکم سے تھا آنا جانا
رئیس احمد نعمانی (بھارت)