ہے تو ہی اول، ہے تو ہی آخر، قوی و قادر

اجمل نقشبندی

ہے تو ہی اول، ہے تو ہی آخر، قوی و قادر
نہاں بباطن، عیاں بظاہر، قوی و قادر

درخت سب ہوں قلم، سمندر ہو روشنائی
ثنا سے بندہ ہو پھر بھی قاصر، قوی و قادر

مصیبتوں میں، کہ آفتوں میں، کہ مشکلوں میں
تو سب کا حامی، تو سب کا ناصر، قوی و قادر

ہر ایک ذی روح کا جہاں میں تو ہی ہے داتا
ہر اک کو بخشے تو رزق وافر قوی و قادر!

تجھی کو زیبا ہے ہر بلندی، ہر اک بزرگی
عروج کا ہے تو حرفِ آخر، قوی و قادر

بحال کردے وہ عہدِ ماضی کے عزمِ و ہمّت
عطا ہو وہ حوصلہ ہمیں پھر، قوی و قادر

تری ہی توصیف کر رہا ہے سنور رہا ہے
یہ تیرا اجملؔ، یہ تیرا شاعر، قوی و قادر