ہے تپتی دھوپ میں سایا بس اس کا نام تلافیٔ غم دنیا میں ایک اس کا نام

کرشن کمارطورؔ

ہے تپتی دھوپ میں سایا بس اس کا نام
تلافیٔ غم دنیا میں ایک اس کا نام

شکست و ریخت کے ان تپتے ریگزاروں میں
نسیم تازہ کا جھونکا بس ایک اس کا نام

مری رگوں میں ہے جاری اسی کی گرمیٔ خوں
مرے لبوں سے شناسا بس ایک اس کا نام

سطر سطر سے عیاں اس کے ہر سخن کا لمس
کہ لفظ لفظ تراشا بس ایک اس کا نام

ہر ایک سانس معطر ہے اس کے ذکر سے طورؔ
بدن میں خوشبو سا پھیلا بس ایک اس کا نام