ہے عجب اس کی شانِ یکتائی خود تماشا ہے، خود تماشائی

امید فاضلی

ہے عجب اس کی شانِ یکتائی
خود تماشا ہے، خود تماشائی
لب پہ وہ نام جب بھی آیا ہے
خود مہکنے لگی ہے گویائی
انجمن انجمن چراغ ہے وہ
گل بہ گل اس کی جلوہ آرائی
اس کی اک جنبش نگاہ کے ساتھ
ہر تجلی وجود میں آئی
اس کے ادنیٰ سے اک اشارے پر
زخم کرنے لگے مسیحائی
جب تک اس کا کرم نہ ہو امید
خود سے ہوتی نہیں شناسائی