ہے قادر آگ کو وہ گلفشانی بخش دیتا ہے لگے جب ضرب ایڑی کی تو پانی بخش دیتا ہے

ہے قادر آگ کو وہ گلفشانی بخش دیتا ہے
لگے جب ضرب ایڑی کی تو پانی بخش دیتا ہے
بہاریں رقص فرماتی ہیں اور گلزار کھلتے ہیں
وہ صحرا کو بہار جاودانی بخش دیتا ہے
ثنائے شاہ پر آمادہ ہو تا ہوں تو رب میرا
تفکر اور خامے کو روانی بخش دیتا ہے
خود اپنے ہی کہے پر رشک کرتا ہے سخنور بھی
زباں کو یوں بھی وہ جادو بیانی بخش دیتا ہے
تخیل کو مرے کیف ثنا جب گد گداتا ہے
رضا ہو اس کی تو لفظ و معانی بخش دیتا ہے
ارادے سے نبی کی جان لینے آنے والے کو
محبت کی ادا اور مہربانی بخش دیتا ہے
حبیب رب کو اے ابرارؔ جب میں یاد کرتا ہوں
وہ آنکھوں کو گہر ہائے نشانی بخش دیتا ہے
(’’سخن سخن اس کا‘‘ سے)