ہے گماں پردے کے باہر اوریقیں پردے میں ہے آپ پر تو چومئے وہ مہہ جبیں پردے میں ہے

اسماعیل پروازؔ

ہے گماں پردے کے باہر اوریقیں پردے میں ہے
آپ پر تو چومئے وہ مہہ جبیں پردے میں ہے

آپ کتنے زاویوں سے دیکھ سکتے ہیں اسے
عکس اس کا دیکھئے وہ تو مکیں پردے میں ہے

کتنی منطق اس میں پوشیدہ ہے کوئی کیا کہے!
سب پہ جو ظاہر ہے وہ پردہ نشیں پردے میں ہے

دعویٰ چشم بصیرت کھوکھلا لگنے لگا
جب عقیدت نے کہادیکھو!یہیں پردے میں ہے

ہے اناالحق کی صدا تحت الشریٰ سے عرش تک
جو فلک پر ہے وہی زیرزمیں پردے میں ہے

راز تخلیق جہاں جس کن میں ہے پروازؔ وہ
ہے قلندر کی نظر میں یاکہیں پردے میں ہے