یارب تری رحمت کا بس اتنا اشارہ ہو چمکے جو سرِ گردوں وہ میرا ستارا ہو

گلنار آفریں

یارب تری رحمت کا بس اتنا اشارہ ہو
چمکے جو سرِ گردوں وہ میرا ستارا ہو

میں اپنی خطائوں پر ہر لمحہ پشیماں ہوں
دریائے معافی میں نزدیک کنارا ہو

میں تجھ سے سوالی ہوں مایوس نہ کر مجھ کو
اے جود و سخا والے بخشش کا اشارہ ہو

دینا ہے تو اب مجھ کو وہ ذوقِ نظر دے دے
ہر آن مجھے تیرے جلووں کا نظارہ ہو

دیکھاترے جلوے کو نزدیک رگ جاں سے
وہ کون سا دن ہے جب تجھ کو نہ پکارا ہو

طوفان کی موجوں سے کیا خوف اسے آئے
جب ڈوبنے والے کو اک تیرا سہارا ہو

گلنار میں وحدت کی راہوں کا مسافر ہوں
اس راہِ صداقت میں جو غم ہے گوارہ ہو