یارب مری جانب نگہ لطف و کرم ہو قائم مرے جذبات محبت کا بھرم ہو

قصری کانپوری

یارب مری جانب نگہ لطف و کرم ہو
قائم مرے جذبات محبت کا بھرم ہو
وجدان سے وابستہ عقیدت کا علم ہو
وا میرے قصدیے کے لئے بابِ حرم ہو
الفاظ دم مدح سرائی ہوں اثر میں
اور گنبدِ خضرا کی بلندی ہو نظرمیں
دے فکر کو وہ نور جو تاروں کو ملا ہے
وہ سوز مجھے بخش جو سازوں کو ملا ہے
وہ قلب ضیاء تاب جو ولیوں کو ملا ہے
وہ نطق عطا کر جو فرشتوں کو ملا ہے
کرنا ہے رقم مدحتِ سرکارؐ مدینہ
تحریر میں ہو پر تو انوار مدینہ
یہ مرحلۂ سخت ہے آسان بنادے
جذبات کی ہر موج کو طوفان بنادے
توصیفِ محمدؐ مرا ایمان بنادے
شاعر ہی بنانا ہے تو حسّان بنا دے
وہ طرزِ بیاں دے جو صداقت کا نشاں ہو
ہر لفظ سلیقے سے محبت کی زباں ہو