یا ازلی الظہور یا ابدی الخفا

ابو الفیض فیضی (۹۵۴ – ۱۰۰۴ھ)

یا ازلی الظہور یا ابدی الخفا

نورک فوق النظر حسنک فوق الثنا
اے وہ ذات جس کا ظہور ازل سے اور جس کا حجاب ابد تک ہے۔ تیرا نور نظر سے بالا تر اور تیرا حسن تعریف سے باہر ہے
نور تو بینش گداز، حسن تو دانش گسل

فکر تو اندیشہ کاہ، کنہ تو حیرت فزا
تیرا نور بصارت کو زائل کرنے والا، تیرا حسن عقل کو باطل کرنے والا، تیرے بارے میں غور تخیل کو گھٹانے والا اور تیری حقیقت حیرت کو بڑھانے والی ہے)
ملت علم ترا ہست بہ فتوی قدس

خون تفکر ہدر، خاک تعقل ہبا
عالم قدس کے فتوے کے مطابق تیری معرفت کے مذہب میں فکر کا خون معاف اور شعور کی خاک رائیگاں ہے
بر درت اندیشہ را شحنۂ غیرت زند

لطفہ حیرت بہ روی ہیلیٔ جہل از قفا
تیرے در پہ غیرت کا شحنہ تخیل کے منہ پر حیرت کے طمانچے اور گردن پر جہالت کے مکے مارتا ہے
راہ کمال ترا حرف و نقطہ ریگ دشت

عالم علم ترا شہر سخن روستا
تیرے کمال کی راہ میں حرف اور نقطے ریگ بیاباں کی طرح بے حقیقت اور تیرے علم کی دنیا میں شہر سخن گاؤں کی طرح بے قدر و قیمت ہے

نہ سر تا کنم ایں رہ دانا فریب

زہرہ نہ تا بو کنم ایں می دانش زدا
میرے پاؤں میں طاقت نہیں کہ یہ عاقلوں کو دھوکا دینے والی راہ طے کرسکوں۔ میری مجال نہیں کہ یہ ہوش کھونے والی شراب سونگھ سکوں
لوحۂ تقدیس تست پاک ز رشح قلم

در خوراکسیر نیست جو ہر اقلیمیا
تیری پاکیزگی کی لوح قلم کے چھینٹوں سے پاک ہے ظاہر ہے کہ سونے کا میل اکسیر کے لائق نہیں
شہر جلال ترا طالب بس کوچہ گرد

ایں نظر پیش بیں، ایں خرد پیشوا
یہ پیش بیں نظر، یہ پیشوا عقل، تیری عظمت کے شہر کی تلاش میں گلی گلی مارے مارے پھرتے ہیں
دانش و بینش بہم یک بہ یک آمیختن

ابجد عشق ترا ہست نختین ہجا
تیرے عشق کی ابجد کی پہلی ہجے یہ ہے کہ علم اور عقل دونوں کو باہم امتزاج دیا جائے
آں چہ طرازد زباں، آں چہ نگار و قلم

آن ہمہ حرف دخل دیں ہمہ نقش دعا
تیری حمد میں زبان جو کچھ بیان کرے سب دھوکا۔ اور قلم جو کچھ لکھے سب فریب ہے
مبتدی و منتہی گرم ہوایت، ولی

مبتدیاں ہرزہ گرد، منتہیاں ژازخا

پایمبتدی اور منتہی دونوں تیرے طالب ہیں مگر مبتدی اس راہ میں آوارہ گرد اور منتہی اس مسئلے میں بیہودہ گو ہیں
نیست دماغی تہی از سر سودای تو

مغز فلاطوں بہ سوخت زیں تف ماخولیا
کوئی سر تیرے سودے سے خالی نہیں حتی کہ افلاطون کا دماغ بھی اس جنون کی گرمی سے جل اٹھا
بی جگری ہمچو من کی رسد آنجا، کہ شد

غیرت تو دشنہ زن بر جگر اولیا
مجھ سا کم ہمت اس مقام تک کب پہنچ سکتا ہے جب کہ تیری غیرت اولیاء اللہ کے جگر پر خنجر چلاتی ہے
لطف تو خواہم شود تنقیہ بخش دماغ

ورنہ شود عاقبت قطرب من مانیا
میری آرزو ہے کہ تیرا کرم میرے دماغ کا تنقیہ کردے۔ ورنہ بالآخر میرا قطرب (ابتدائے جون مانیا (انتہائے جنون) ہوجائے گا
برہنہ پاگرد را در رہ اجلال تو

موزہ کیمخت نیست جز دہن اژدہا
(تیری عظمت کی راہ میں ننگے پاؤں پھرنے والے کے لیے اگر کوئی چرمی جو تا ہوسکتا ہے تو وہ اژدہے کا منہ ہے
گنج ترانۂ فلز نیم کفی از غبار

خون ترا ہفت بحر یک قدح شوربا
تیرے خزانے کے مقابلے میں دنیا کی نو دھاتیں آدھی مٹھی خاک کے برابر ہیں تیرے خوان کرم پر ساتوں سمندر شوربے کے ایک پیالے سے زیادہ نہیں)
سر بہ زمین درت بردن و برداشتن

نی بہ طریقت درست نی بہ حقیقت روا
تیرے در کی خاک پر سر رکھ کر اٹھانا نہ طریقت میں درست ہے نہ حقیقت میں جائز
معدۂ آز مرا غائلۂ جوع کلب

وز ہمہ بقراط عشق گفت مرا احتما
میری حرص کے معدے کو کتے کی سی بھوک ہے لیکن عشق کے طبیب نے مجھے سب چیزوں سے پرہیز بتایا ہے